Featured

    Visitor

    Social Icons

Loading...

امیرافراد کے لیے سالانہ 12 لاکھ روپے فِیس والی سوشل میڈیا ایپ متعارف




امیرافراد کے لیے سالانہ 12 لاکھ روپے فِیس والی سوشل میڈیا ایپ متعارف

بے تحاشہ دولت مند لوگوں کی ہرشے مختلف ہوتی ہے اوراب انہی کے لیے ایک سوشل میڈیا ایپ بنائی گئی ہے جس کی سالانہ فیس 12 ہزار ڈالر یعنی 12 لاکھ روپے کے بقدرہے۔ ماہانہ ایک  ڈالر فیس کی یہ ایپ نودولتیوں اور انتہائی امیرکبیرنوجوانوں کے لیے ہے جو ایپ اسٹور پر مفت میں دستیاب ہے لیکن مفت ورژن میں آپ اپنی پوسٹ شامل نہیں کرسکتے۔ اکاؤنٹ میں اپنی پوسٹ اور تصاویر شامل کرنے کے لیے آپ کو رکنیت درکار ہوتی ہے جس کی ماہانہ فیس ایک لاکھ روپے ہے۔ اس طرح سے یہ پلیٹ فارم عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہے جو دیکھنے میں اسنیپ چیٹ جیسا لگتا ہے۔

رچ کڈز کے رکن بننے کے بعد آپ نہ صرف امیر افراد کی پرتعیش زندگی پر نظر ڈال سکتے ہیں بلکہ خود اپنی ویڈیو اور تصاویر بھی شامل کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں رچ کڈز کمپنی کا کہنا ہےکہ اس پلیٹ فارم کے2 اہم مقاصد ہیں۔ ایک تو یہ کہ دولت مند افراد کو انہی جیسا ایک حلقہ فراہم کیا جائے اوردوم اس کی رقم غریبوں پر خرچ کی جائے۔ ایک ہزار ڈالر ماہانہ کے بدلے پلیٹ فارم انہیں بہت اہم خدمات فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کے سی ای او کے مطابق اس پلیٹ فارم کی فیس سے حاصل ہونے والے ایک تہائی ( 33 فیصد) رقم غربت کے خلاف کام کرنے والے اداروں کو عطیہ کی جائے گی۔ تاہم سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بعض افراد نے کہا ہے کہ یہ ایپ دولت اور انا رکھنے والوں کے لیے ہی مناسب پلیٹ فارم ہے۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہےکہ اس ایپ میں کوئی خاص فیچر نہیں جس کے لیے رقم خرچ کی جائے اور رہا سوال مدد کا تو وہ سالانہ اس سے زیادہ رقم عطیہ کرتے رہتےہیں۔

فیس بُک پر پرانی پوسٹس کیسے چھپائیں


فیس بُک پر پرانی پوسٹس کیسے چھپائیں

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک میں ایک ایسا ٹول موجود ہے جس کی مدد سے آپ اپنی پرانی پوسٹس کو چھپا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک پر صارفین کی ماضی کی کچھ پوسٹس ایسی ہوتی ہیں جو انھیں یاد بھی نہیں ہوتیں لیکن ان کو اب دیکھ کر شرمندگی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس شرمندگی سے بچنا بہت آسان ہے۔ فیس بُک نے ایک ٹول ایسا رکھا ہوا ہے جو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے فیس بُک کے پیج کے اوپر دائیں جانب موجود سیکیورٹی لاک کے آئیکون پر کلک کریں اور پھر سی مور سیٹنگ  کے آپشن کا انتخاب کریں۔ وہاں آپ لمٹ پاسٹ پوسٹس کے آپشن پر کلک کریں تو آپ کے سامنے آ جائے گا جس کی تصویر نیچے ہے، وہاں لمٹ اولڈ پوسٹ کے بٹن پر کلک کرکے پرانی پبلک پوسٹس کی دستیابی صرف دوستوں تک محدود کر دیں۔ اسی طرح اپنی ٹائم لائن کی سیٹنگز کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک بار پھر سیکیورٹی لاک پر جائیں اور ٹائم لائن پھر کلک کرکے ٹیگنگ سیٹنگز پر چلے جائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہلا، چوتھا، پانچواں اور ساتواں آپشن فرینڈز یا جس کو آپ ترجیح دیں پر سیٹ ہو۔

آئی فون سیون کے اہم فیچرز


آئی فون سیون کے اہم فیچرز 

ایپل نے آئی فون سیون میں کافی تبدیلیاں کی ہیں جیسا کہ ہوم بٹن کا ختم کر دینا، ہیڈ فون جیک اور اے نائن چپ وغیرہ - چونکہ دنیا میں ایپل پروڈکٹس کو ایک مخصوص مقام حاصل ہے اس لیے ایپل صارفین آنے والے ماڈلز کے لیے شدت سے انتظار کرتے ہیں- ذیل میں آئی فون سیون اور آئی فون سیون پلس کے اہم فیچرز درج کے جاتے ہیں

واٹر پروف سسٹم 

تین فٹ تک گہرے پانی میں آئی فون سیون پانی کے خلاف مزاحمت کر سکتا ہے اور پانی اس گہرائی تک نقصان نہں پہنچا سکتا - تین فٹ سے زیادہ گہرے پانی میں زیادہ دباؤ کی وجہ سے پانی آئی فون سیون کو متاثر کر سکتا ہے

فرنٹ سکرین 

آئی فون سیون میں جو سکرین پیش کی جا رہی ہے وہ پوری فرنٹ سائیڈ کا احاطہ کیے ہوے ہے جو کہ ایک زبردست فیچر ہے اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث ہے



دھرا کیمرہ 

دو تصویروں کو جوڑنے کے لیے ایپل نے دھرا کیمرہ متعارف کروایا ہے جو کہ کوئی بھی دو تصویروں کو ایک تصویر میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے - یہ کیمرہ صرف آئی فون سیون پلس میں ہی دستیاب ہے

جدید الیکٹرونک چپ 

آئی فون کے پچھلے ماڈلز میں اے نائن چپ کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ آئی فون سیون اور سیون پلس میں اے ٹین الیکٹرونک چپ کا استعمال اسے مزید تیز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس کی سپیڈ ٢.٤٥ گیگا ہرٹز تک پہنچ جاۓ گی

ہیڈ فون جیک کا خاتمہ 

نئے آئی فون سیون میں ھیڈ فون جیک کا خاتمہ کر کے اس کے متبادل لاٹننگ کنیکٹر متعارف کرایا جا رہا ہے جو ایک نہایت اہم فیچر ہے

ہیپٹک بٹن 

ہوم بٹن کو ختم کر کے اس کی جگہ ہیپٹک بٹن متعارف کرایا گیا ہے - ہوم بٹن کا خاتمہ واٹر پروفنگ کے لیے عمل میں لایا گیا ہے

انسٹا گرام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت


انسٹا گرام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت

انسٹا گرام ایک فوٹو شیئرنگ ایپ ہے جو اب مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے- یہ اب زیادہ استعمال ہونے والی ایپس میں چوتھے نمبر پر آ گئی ہے-انسٹا گرام کو گوگل پلے اسٹور پر ایک ارب سے زیادہ مرتبہ ڈوونلوڈ کی جا چکی ہے- ٢٠١٥ کے آخر میں اینڈرائڈ فون یوزرز کی تعداد ١.٤ ارب تھی- انسٹا گرام کی طرف سے ایک پریس بریفنگ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ انسٹا گرام کے ماہانہ صارفین کی تعداد پچاس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے- اور اس ایپ کے ڈیلی یوزرز کی تعداد تیس کروڑ سے زائد ہے

گزشتہ چند مہینوں میں انسٹا گرام میں کافی تبدیلیاں بھی کی جا چکی ہیں- جیسا کہ لوگو اور ڈیزائن کا تبدیل ہونا، نئی الگورتھم ٹائم لائن کا متعارف کرانا، سنیپ چیٹ جیسا سٹوریز فیچر کا شامل ہونا وغیرہ وغیرہ- سٹوریز فیچر عارضی سلائڈ شوز کی تیاری میں معاون ہے- اور یہ چوبیس گھنٹے بعد خود بخود ڈیلیٹ ہو جاتا ہے- نئی الگورتھم ٹائم لائن میں پوسٹس کو وقت کی بجاے یوزرز کے انٹرسٹ کے لحاظ سے شو کیا جاتا ہے

سب سے زیادہ سٹوریج والی ہارڈ ڈسک کا کامیاب تجربہ


سب سے زیادہ سٹوریج والی ہارڈ ڈسک کا کامیاب تجربہ

بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی "سیگیٹ " نے ابتک کی سب سے زیادہ گنجائش والی ہارڈ ڈسک کا کامیاب تجربہ کیا ہے- اس ہارڈ ڈسک کی سٹوریج ٦٠ ٹی بی ہے جو کہ  کسی بھی دوسری کمپنی سے کہیں زیادہ ہے- اس سے پہلے  مارکیٹ میں ١٥ٹی بی کی ہارڈ ڈسک سب سے زیادہ گنجائش والی سٹوریج ڈیوائس مانی جاتی تھی-"سیگیٹ " کے مطابق اس ہارڈ ڈسک کا سائز بھی وہی ہے جو کہ رائج الوقت ہے-

اس ہارڈ ڈسک میں تقریباً ٤٠٠ ملین تصاویر اور دس ہزار سے زائد ویڈیوز محفوظ کی جا سکتی ہیں- سائنس دانوں کے مطابق اس ہارڈ ڈسک کو بہت آسانی سے ٦٠ ٹی بی سے ١٠٠ٹی بی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے- فی الوقت یہ ہارڈ ڈسک مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے مگر امید کی جا رہی ہے کہ یہ اگلے سال میں مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر دی جائیگی

اوپو کا ایف ون ایس اسمارٹ فون پاکستان میں متعارف


اوپو کا ایف ون ایس اسمارٹ فون پاکستان میں متعارف
کیمرہ فون بنانے والی شہرہ آفاق کمپنی اوپو نے ایف سیریز کے سلسلے کا ایک نیا انقلابی فون متعارف کرادیا ہے۔ ایف ون ایس کے نام سے ریلیز کردہ اس فون کو ’ سیلفی ایکسپرٹ‘ کا نام بھی دیا گیا ہے جو سیلفی لینے کے عمل کو ایک نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ یوں اوپو فون تصویر کشی کو ایک نیا معیار فراہم کرے گا۔



آگے کی جانب فرنٹ شوٹر کیمرے کے علاوہ ایف ون ایس میں 13 میگا پکسل کا ریئر کیمرہ بھی نصب ہے۔ اس کے علاوہ لائٹننگ فاسٹ فنگرپرنٹ ریڈر، 3075 ایم اے ایچ بیٹری، 32 جی بی روم، اور ٹرپل کارڈ سلاٹ رکھی گئی ہے جو فورجی، ایل ٹی ای کی دو سمیں اور میموری کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ایف ون ایس پاکستان میں متعارف کرادیا گیا ہے جب کہ اسی کے ساتھ جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیائی خطوں اور دیگر مارکیٹ میں بھی پیش کیا جاچکا ہے۔


سیلفی کا آرٹ

ایف ون ایس یعنی’سیلفی ایکسپرٹ‘ کو خوبصورت اور حقیقی سیلفی لینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کے لیے 16 میگاپکسل فرنٹ کیمرہ لگایا گیا ہے۔ 16 ایم پی کیمرے میں 1/3.1 انچ سینسر اور ایک بڑا f/2.0 اپرچر ہے جو تصویر میں دھندلاہٹ اور نوائز کم کرکے حقیقت سے قریب تر سیلفی بناتا ہے۔

اوپو کے اس نئے فون میں موجود آپریٹنگ سسٹم کا الگورتھم ایف ون ایس کے ذریعے لی جانے والی سیلفی کو پروسیس کرکے منظر کی تفصیلات اور گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس میں اسکرین فلیش فنکشن کو اپ گریڈ کیا گیا ہے جو روشنی کو زبردست انداز میں ایڈجسٹ کرکے کم روشنی میں بھی بہترین سیلفیز ممکن بناتا ہے۔

ایف ون ایس میں نصب 1/3 انچ کا بیک الیومنیٹڈ سینسر اور خاص اپرچر روشنی کے لحاظ سے کام کرتے ہیں۔ یہ فیچرز پی ڈی اے ایف کے ساتھ ملکر انتہائی صاف اور روشن تصاویر اتارتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ موبائل فوٹوگرافی کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ سیلفی پینوراما موڈ کے ذریعے پارٹی میں شامل تمام دوستوں کو تصویر میں قید کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صرف ہاتھ ہلانے اور ’چیز‘ کہنے سے سیلفی موڈ ازخود آن ہوتا ہے۔ اسطرح شٹربٹن دبانے سے پیدا ہونے والی دھندلاہٹ کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

تصاویر اور سیلفی کو مزید بہتر بنانے کے لیے بلٹ ان 9 فلٹر اور واٹرمارکس کے علاوہ کئی پلگ انز کی سہولت موجود ہے۔ ان میں ایکسپرٹ موڈ، ڈبل ایکسپوژر، ٹائم لیپس اور گفس قابلِ ذکر ہیں۔



فاسٹ ٹچ اور فنگر پرنٹ ایپ لانچ

ایف ون ایس میں فنگر پرنٹ ریڈنگ کی سہولت بھی موجود ہے ۔ یہ آپشن فون کو ایک سیکنڈ کے پانچویں حصے میں کھول دیتا ہے اور اس قیمت میں بجلی کی رفتار سے فون کھولنے والا فنگر پرنٹ آپشن صرف اوپو ہی پیش کررہا ہے۔ فنگر پرنٹ آپشن کالنگ اور ایپ لانچ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یوزر پانچ مختلف ایپلی کیشنز اور کانٹیکٹس کو اپنی مختلف انگلیوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے کھول سکتے ہیں۔ اس طرح اب فون ان لاک کرنے، کال کرنے اور ایپس کھولنے کے لیے بھی فنگر پرنٹس استعمال کئے جاسکتے ہیں۔


اعلیٰ اور دیرپا کارکردگی

ایف ون ایس میں اوکٹا کور 64 بٹ پروسیسر ہے جس کے ساتھ 3 جی بی ریم اور 32 جی بی روم۔ اس کے علاوہ تین سلاٹ والی ٹرے میں دو سمیں اور 128 جی بی تک کا میموری کارڈ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ فیچرز ڈیٹا اور گفتگو کے لیے سہولت فراہم کرتےہیں۔

او ایس  3.0 یوزر کو مطمئین رکھتا ہے جو فون کی کارکردگی کو تیز اور بہتر رکھتا ہے۔ اس طرح او ایس ٹو کے مقابلے میں اس نئے  فون کی کارکردگی 30 فیصد ذیادہ ہوگئی ہے۔ دوسری جانب 3075 ایم اے ایچ کی بیٹری دیر تک فون کو چلانے کی سہولت فراہم کرتi ہے۔ اس کی لائف 14 گھنٹے سے ذیادہ ہے۔


ہموار اور خوبصورت ڈیزائن

ایف ون ایس میں گوریلا گلاس اسے ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسکرین پر حفاظتی کوٹنگ بھی اس کو بچاتی ہے اور فون کا ڈیزائن ہموار اور بہتر ہے۔ پاکستان میں ایف ون ایس گولڈ اور گولڈ روز کلر میں پیش کیا جارہا ہے۔

ایسا چھوٹا میموری کارڈ جو 12 کروڑ کتابوں کا ڈیٹا محفوظ کرسکے گا


ایمسٹرڈیم: ایک وقت تھا جب چند کلو بائٹ مواد کو محفوظ رکھنےکے لیے بھی بڑی بڑی مشینیں درکار تھیں لیکن اب ہم چھوٹے سے ایس ڈی کارڈ میں سیکڑوں گیگا بائٹس ڈیٹا اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب صرف 0.1 ملی میٹر چوڑائی والے ایک مکعب میں 12 کروڑ کتابوں سے بھی زیادہ کا مواد سمویا جاسکے گا۔

ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی سے منسلک ماہرین کی ٹیم نے ایسی میموری ڈیوائس کا تجربہ کیا ہے جس میں صرف ایک مربع انچ کے رقبے پر 500 ٹیرابائٹس جتنا ڈیٹا محفوظ کیا جاسکے گا۔ سرِدست یہ میموری مائع نائٹروجن کے درجہ حرارت یعنی 77 ڈگری کیلون (منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ) پر ہی کام کرسکتی ہے۔

اس میں تانبے (کاپر) کی سطح پر کلورین ایٹموں کی پرت بچھائی گئی ہے جو صرف ایک کلورین ایٹم جتنی موٹی ہے۔ اسکیننگ ٹنلنگ مائیکرو اسکوپ (ایس ٹی ایم) کی مدد سے ان ایٹموں کی ترتیب میں تبدیلی کرکے میموری میں ڈیٹا لکھا جاتا ہے جبکہ ڈیٹا پڑھنے، بدلنے اور مٹانے کا کام بھی ایس ٹی  ایم ہی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ فی الحال صرف ایک کلوبائٹ جتنے ڈیٹا سے اس تکنیک کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

یہ نئی تکنیک ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے جب کہ اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے نیول ریسرچ لیبارٹری، امریکا میں سینٹر فار کمپیوٹیشنل مٹیریل سائنس کے تحقیق کار اسٹیون اِروِن کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کے ذریعے محفوظ کیے گئے ڈیٹا کی کثافت ’’موجودہ ہارڈ ڈسک یا فلیش (میموری کی) ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ ہے اور یہ پیش رفت بلاشبہ قابلِ تعریف ہے۔

ملیریا سے لے کر کینسر تک کا پتا لگانے والی جدید ’’کاغذی پٹی‘‘ کا تجربہ



اوہایو: امریکی ماہرین آج کل ایک ایسی کاغذی پٹی پر تجربات کرنے میں مصروف ہیں جو ملیریا سے لے کر کینسر تک، کسی بھی بیماری کی تشخیص کرسکے گی۔

اس تکنیک کے موجد اور اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بطورِ خاص افریقہ اور ایشیاء کے اُن علاقوں میں رہنے والوں کے لیے مفید ہے جہاں جدید تجربہ گاہیں موجود نہیں۔ ماہر پروفیسر کے مطابق’’آپ کو اس پٹی پر اپنے خون کا صرف ایک قطرہ ٹپکانا ہوگا، اور قریبی لیبارٹری پہنچا دینا ہوگا (جہاں اس کاغذی پٹی کو جانچنے کی سہولت موجود ہوگی)۔ وہاں منٹوں میں بیماری ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کرلی جائے گی۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس کاغذی پٹی کو بذریعہ ڈاک بھی ارسال کیا جاسکے گا۔ خون کا قطرہ ٹپکائے جانے کے بعد، یہ پٹی (بیماری کی تشخیص کے لیے) ایک مہینے تک کارآمد رہے گی۔

ماہرین کے مطابق عام کاغذی پٹیوں کو خاص طرح کے حیاتی کیمیائی مرکبات سے تربتر کرکے خشک کرلیا گیا، اور یہ ’’تشخیصی کاغذی پٹی‘‘ تیار کرلی گئی جو فی الحال صرف ملیریا کی تشخیص میں کارگر ہے۔ پٹی کے مؤجد کا کہنا ہےکہ مرکبات کی نوعیت تبدیل کرکے ان پٹیوں کو کسی بھی مرض کی تشخیص کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

فیس بک ازخود ختم ہونے والے میسج متعارف کرائے گا


سان فرانسسكو: فیس بک نے پیغامات کو خفیہ رکھنے کے لیے ایک نئی سروس کا تجربہ شروع کردیا ہے جس کے تحت دو افراد اپنی گفتگو خفیہ رکھ سکیں گے۔

خفیہ میسجنگ میں ایک ’ ٹائمر‘ آپشن ہوگا جو سلسلہ گفتگو ( تھریڈ) کو آپ کے دئیے ہوئے وقت کے مطابق ازخود تباہ کردے گا۔ یہ آپشن بالکل اسنیپ چیٹ کی طرح کام کرتا ہے جس میں تصاویر اپنے مقررہ وقت پر ختم ہوجاتی ہے، فیس بک کی یہ سہولت اس کے ایک ارب سے زائد صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔ فیس بک کی چیٹنگ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پوری گفتگو اینکرپٹڈ ہوگی۔

اس طرح حکومتیں اور ہیکرز بھی آپ کی گفتگو نہیں پڑھ سکیں گے، فی الحال یہ فیچر تجرباتی سطح پر ہے اور چند لوگ ہی اسے استعمال کررہے ہیں۔  یہ فیچر اگلے ایک دو ماہ میں یہ فیس بک کے پوری دنیا میں موجود صارفین کے لیے دستیاب ہو گا۔

وائبر اور اسنیپ چیٹ کے مقابلے میں فیس بک کا خفیہ گفتگو کا آپشن آپ کو ازخود ( مینوئلی) سیٹ کرنا ہوگا۔ فیس بک میں میسنجر پراڈکٹ کے سربراہ ٹونی لیچ نے بتایا کہ ان کا ادارہ میسجنگ کو پرائیوٹ اور محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ اپنے ایک بلاگ میں فیس بک کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ یہ ون ٹو ون خفیہ گفتگو کا آپشن ہے اور اسے کسی شخص کے مخصوص ڈیوائس ( اسمارٹ فون یا ٹیپلٹ وغیرہ) سے ہی استعمال کیا جاسکے گا اور اسے مجاز شخص ہی وصول کرسکے گا۔

اسی طرح پیغامات کو تالا لگانے یا ’ لاک‘ کرنے کا آپشن بھی فراہم کیا جائے گا جو صرف دو افراد کے مابین پاس ورڈ سے ہی کھلے گا، اس طرح آپ کی سن گن لینے والے اور ہیکرز اس گفتگو کو نہیں پڑھ سکیں گے اور نہ ہی سینسر کرنے والے حکومتیں گفتگو تک رسائی حاصل کرسکیں گی۔

انسانی بال جتنے باریک کیمرے کی تیاری میں اہم پیش رفت


برلن: سائنسدانوں اورانجینیئروں کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے چھوٹا لینس بنالیا جس سے انسانی بال جتنے لینس بنانے کی منزل قریب آگئی ہے جب کہ اس لینس سے کیمروں کی دنیا میں انقلاب آجائے گا۔

جرمنی کے ماہرین کے مطابق انہوں نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے 3 لینس کو بناکر اور جوڑ کر ایک ’’پن ہیڈ‘‘ کیمرہ بنایا ہے جو نمک کے ایک ذرے جتنا ہوگا اور اس سے سرجری، جاسوسی، روبوٹکس اور کیمرہ صنعت میں انقلاب پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے بننے والا چھوٹا کیمرہ سرنج کی سوئی میں سماسکتا ہے اور اسے کسی آپٹیکل تار ( فائبر) کے کنارے پر بھی لگایا جاسکتا ہے۔


ماہرین کے مطابق اس کے ذریعے جسم کے اندر اینڈوسکوپی کو بہتر بنایا جاسکے گا کیونکہ اتنے باریک کیمرے سے بہت صاف اور واضح تصاویراور ویڈیو لی جاسکیں گی اور اس کے علاوہ اعضا کے اندر جھانکنا بھی ممکن ہوسکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ ملٹی لینس طریقے سے روبوٹکس اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی انقلاب آجائے گا، اس سے فائبر امیجنگ سسٹم، آپٹیکل فائبر اور دیگر ٹیکنالوجی میں بہت ترقی ہوگی۔

مائیکروسافٹ کے شریک بانی کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بنانے کا اعلان


واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی پال ایلن نے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بنانے کا اعلان کیا ہے جو لوگوں کو خلا میں بھی بھیج سکے گا۔

یہ طیارہ اپنی تکمیل کے بعد یہ 1947 کے ہاورڈ ہیوزایچ فورہرکولیس طیارے سے بھی بڑا ہوگا ۔ طیارے کو اونچائی تک پہنچا کراس طیارے سے چھوٹی خلائی شٹل کو براہ راست مدارمیں بھیجنا ممکن ہوگا یعنی اب خلائی شٹل خراب موسم کے بغیربراہ راست کسی طیارے سے لانچ کرنا ممکن ہوجائے گا۔


طیارہ اسٹریٹو لانچ دو فیوزلاج ( بنیادی ڈھانچے ) پرمشتمل ہے جس میں 6 انجن، لینڈنگ گیئرز اوردیگر اہم حصے موجود ہیں اور اس کا ڈھانچہ ہلکے پھلکے خاص مٹیریلز سے تیار کیا گیا ہے۔ اپنی تکمیل کے بعد یہ فضا میں بہت بلندی پر جا کر خلائی جہاز اور خلائی شٹل کو مدار میں روانہ کرے گا۔

اس کے بازوؤں کا گھیر 117 میٹر ( 385 فٹ) سے زیادہ ہے اور 6 عدد 747 کلاس انجن لگائے گئے ہیں۔ اسٹریٹو لانچ چھوٹے سیٹلائٹس کو بھی خلا میں بھیج سکے گا جب کہ  اس کی پہلی پرواز 2018 میں متوقع ہے اور 2020 تک اسے کاروباری پیمانے پر استعمال کرنا ممکن ہوگا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس کا 76 فیصد حصہ تیار ہوچکا ہے جو ذاتی خلائی سواریوں کے ضمن میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔

امریکا میں ہیلی کاپٹرکوٹیبلٹ سے اڑانے کا کامیاب تجربہ


کنیکٹکٹ: دنیا میں پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر نے خود کار انداز میں پرواز کی اور بحفاظت زمین پر اترآیا جب کہ اس میں بیٹھے پائلٹ نے صرف ایک ٹیبلٹ کے ذریعے اسے کنٹرول کیا۔

یہ تجربہ امریکی شہر کنیکٹکٹ میں کیا گیا جہاں سیکورسکی ایس 76 ہیلی کاپٹر کو صرف ایک ٹیبلٹ  کے ذریعے اڑایا گیا اور اس نے 30 میل کا طویل سفر طے کیا اور بحفاظت زمین پر اترگیا۔ اس ہیلی کاپٹر کی پرواز، نگرانی اور اڑان کو صرف ایک ٹیبلٹ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے جسے ہیلی کاپٹر میں بیٹھا ایک آپریٹرچلارہا تھا ۔ ہیلی کاپٹر نے کنیکٹی کٹ کے مقام اسٹریٹ فورٹ سے پرواز کی اور اسی شہر کے علاقے پلین ویلی میں لینڈ کیا۔ مجموعی طور پر اس نے 30 میل یعنی 48 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔

گوگل اور دیگر ادارے خودکار گاڑیوں پر تحقیق کرر ہے ہیں لیکن فضا میں پائلٹ کے بغیر ہیلی کاپٹر اڑانے کا یہ پہلا کامیاب تجربہ ہے۔ اس کے ذریعے ایک کمرشل ہیلی کاپٹر خود فضا میں بلند ہوا اور 30 میل کا فاصلہ طے کیا اور بحفاظت لینڈنگ کی۔ ہیلی کاپٹر بنانے والی امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح سے نہ صرف ہیلی کاپٹر عملے کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ہیلی کاپٹر پرواز کی ٹریننگ میں بھی تبدیلیاں آئیں گی جب کہ اس نظام کا اہم مقصد پائلٹ پر غیر ضروری بوجھ کو کم کرنا اور ہیلی کاپٹر کی حفاظت میں اضافہ کرنا ہے۔

گوگل ہماری ٹیلیفونک گفتگو، انٹرنیٹ سرچ کا ریکارڈ محفوظ کر لیتا ہے


ہم فون پر کیا بات کرتے ہیں اور انٹرنیٹ پر کس چیز کو تلاش کرتے ہیں، ہمیں پسند ہو یا نہ ہو، گوگل کے پاس یہ تمام ریکارڈ موجود رہتا ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ہم اس ریکارڈ کو مٹا بھی سکتے ہیں۔

لاہور: ٹیکنالوجی کی جدت سے جہاں ہمیں بہت سی سہولیات میسر آئی ہیں وہاں ہماری ذاتی زندگی میں عمل دخل بھی بڑھ گیا ہے۔ ہم فون پر جو باتیں کرتے ہیں یا انٹر نیٹ پر جو کچھ معلوم کرنا چاہتے ہیں، گوگل کے پاس یہ سارا ریکارڈ موجود رہتا ہے۔ یہی نہیں ہم کہاں کہاں گئے اور یوٹیوب میں کیا سرچ کرتے رہے، یہ سب بھی اس ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے۔

تاہم، اچھی بات یہ ہے کہ ہم نہ صرف اس ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اس ریکارڈ کو مٹا بھی سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ  ہسٹری ڈاٹ گوگل ڈاٹ کام  پر جائیں اور اپنے گوگل اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو جائیں۔ لاگ ان ہونے کے بعد آپ کا سارا ریکارڈ آپکے سامنے ہو گا۔ اب آپ چاہیں تو اس ریکارڈ کو ڈیلیٹ بھی کر سکتے ہیں۔

گوگل نے ایک ارب پکسلز کا الٹرا ہائی ریزولوشن روبوٹک کیمرا متعارف کرادیا


امریکا: گوگل کلچرل انسٹی ٹیوٹ نے جدید اور تیز ترین روبوٹک آرٹ کیمرا متعارف کرا دیا جو مصوری کے فن پاروں کی ایک ارب پکسلز کی حامل انتہائی تفصیلات کے ساتھ  تصاویر بنا سکتا ہے اور اس کا مقصد دنیا بھر میں موجود فن پاروں کی ڈیجیٹل کاپی محفوظ کرنا اور ان پر تحقیق کو آسان بنانا ہے۔

مصوری کے فن پاروں کو سمجھنا بھی ایک فن ہے اس لیے مصوری سے دلچسپی رکھنے والے افراد دنیا بھر کے عجائب گھروں میں جاتے ہیں اور وہاں رکھے فن پاروں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ پرانے دور کے مصوروں نے اپنے فن پاروں میں کئی راز چھوڑے ہیں جنہیں تلاش کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں ان کا معائنہ کرنے کے بعد بھی آج تک ان میں چھپی کوئی نہ کوئی نئی چیز دریافت ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ دنیا کے ہر فرد کا ان فن پاروں تک پہنچنا بھی ممکن نہیں۔ ان کی جو تصاویر دستیاب ہیں وہ جتنی بھی اچھی ہو جائیں ان کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینا ممکن نہیں۔ ان فن پاروں کی تصویر کشی کے لیے الٹرا ہائی ریزولوشن کیمرا درکار ہوتا ہے۔ لیکن یہ فن پارے بہت ہی پرانے دور کے ہونے کی وجہ سے انتہائی نازک ہیں۔ انہیں زیادہ ہوا، روشنی اور نمی سے نقصان پہنچتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کئی ایسے انمول فن پارے ضائع ہو گئے۔

دنیا میں موجود ان پاروں کو محفوظ کرنے کے لیے گوگل کلچرل انسٹی ٹیوٹ نے ایک نیا آرٹ کیمرا متعارف کرایا ہے۔ یہ کیمرہ ایک ارب پکسلز کی حامل الٹرا ہائی ریزولوشن تصویر بنا سکتا ہے۔ یہ کیمرا تصویر کو نقصان پہنچائے بغیر اس کے ایک ایک نقطے کی انتہائی بہترین تصویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تصویر کے ہر حصے کو مکمل فوکس میں لانے کے لیے یہ اس کی سیکڑوں تصاویر بنا لیتا ہے۔

اس کیمرے کے ذریعے گوگل کا مقصد دنیا بھر میں موجود نایاب فن پاروں کی ڈیجیٹل کاپیاں تیار کرنا ہے اس کام کے لیے یہ کیمرا دنیا بھر کے عجائب گھروں کا سفر کرے گا تاکہ ان میں رکھے فن پاروں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ اور یہ کام گوگل بغیر کسی معاوضے کے یعنی مفت انجام دے گا۔ کیمرے کے اجرا کے موقع پر اس کی پہلی بنائی 200 تصاویر کو بھی آن لائن پیش کیا گیا ہے جس سے اس کیمرے کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Microsoft takes on Oracle, opening up database software to Linux


(Reuters) - Microsoft Corp planned on Monday to announce its move into a new business, unveiling a database software that works with a rival to its Windows operating system, a move that takes aim at a market long dominated by Oracle Corp.

Microsoft’s new database product will work with the Linux operating system. The move is the latest to show Microsoft’s increasing willingness to work with competing products, a radical change for the once fiercely protective company.

Microsoft’s more open strategy has become a hallmark of Chief Executive Officer Satya Nadella since he took over in 2014.

In an era of exploding amounts of data, much of it used by companies trying to win more business and establish competitive edges, data management has become critically important.

Overall database-software sales, well north of $30 billion, have kept rising even though spending in information technology has been generally lackluster, said Gartner analyst Merv Adrian.

“If you look at the companies that are transforming and disrupting industries, it is often with data at the core,” said Scott Guthrie, executive vice president for cloud and enterprise at Microsoft. “All of them are using data in a much richer way now to understand their customers.”

He cited electronic signature company DocuSign as a longstanding customer of SQL Server, the database product that is expanding to Linux. So is Renault Sport, which uses sensors that collect myriad data points to hone performance of Formula One racing teams.

Microsoft’s SQL Server business ranks behind No. 1 Oracle, which has more than 40 percent market share in database software and works with Linux, Adrian said.

Microsoft has 21.5 percent of the market, he said, pushing International Business Machines Corp from second to third place in 2013. The product is one of Microsoft’s biggest business lines. SAP SE also competes in the area.

Until now, Microsoft on-premises database software worked only with its own Windows operating system. Now it will work with Linux, which has gained significant traction in recent years.

“Larry’s not going to lose any sleep,” said Adrian, referring to Oracle CEO Larry Ellison, “but yes, they’ll notice it. It’s a significant competitive threat they didn’t have before.”

It was unclear how many customers Microsoft will win for its Linux product, which will be in preview mode until mid 2017.

Under Nadella, Microsoft has made many products compatible with other systems, including Apple’s iOS. Late last year, it opened its cloud service, Azure, to customers of Red Hat(RHT.N), a company that makes a popular version of Linux.

Google tests digital wallets that can stay in pockets


SAN FRANCISCO (AFP) - Google on Wednesday said it is testing ways to let people use digital wallets without having to even take smartphones out of their pockets.

The Internet colossus is dabbling with ways to make its Android Pay system for smartphones hands-free, with verification by facial recognition, Google product manager Pali Bhat said in a blog post.

"Imagine if you could rush through a drive-thru without reaching for your wallet, or pick up a hot dog at the ballpark without fumbling to pass coins or your credit card to the cashier," Bhat said.

"This prompted us to build a pilot app called Hands Free that we’re now in the early stages of testing."

Hands Free became available for smartphones powered by Apple or Android software and was being rolled out at a small number of Silicon Valley area eateries, including McDonald’s and Papa John’s, according to Google.

The digital wallet uses Bluetooth and Wi-Fi connections alone with location sensing capabilities in smartphones to detect when someone is near a store enabled with Hands Free payment technology.

"When you’re ready to pay, you can simply tell the cashier, ‘I’ll pay with Google,’" Bhat said.

"The cashier will ask for your initials and use the picture you added to your Hands Free profile to confirm your identity."

At some locations, Google is experimented with using cameras in stores to recognize people with Hands Free digital wallets so they could pay without even pausing.

Since Android pay was launched in September, an average of 1.5 million accounts have been registered monthly in the United States and the number of locations accepting it has topped two million, according to Google.

"We’re busy working to bring the convenience of Android Pay to more countries and a growing list of stores and apps," Bhat said.

Google’s mobile wallet competes with Apple Pay and others as people’s reliance on smartphones expands to using handsets to make payments in real-world shops.

روتے بچوں کو آئی پیڈ یا موبائل فون تھمانا دماغ کیلئے نقصان دہ ہے:ماہرین


ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئی پیڈ سے کھیلنے والے بچے اپنے جذبات پر قابو پانا نہیں سیکھ پاتے اور سماجی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں

لاہور - طبی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ روتے بچوں کو چپ کروانے کے لیے انہیں آئی پیڈ یا موبائل فون تھمانا ننھے دماغوں کے لیے نقصان دہ ہے ، ایسے بچے نہ صرف سماجی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں بلکہ اپنے جذبات پر قابو پانا بھی نہیں سیکھ پاتے ۔
بچے ہمارے عہد کے کچھ زیادہ ہی چالاک ہیں ، روتے ، منہ بسورتے ان ننھے منے ضدی بچوں کو اگر آئی پیڈز یا اسمارٹ فونز تھما دیں تو چپ کر جاتے ہیں ۔ آج کے دور میں والدین کو بھی سہولت ہو گئی ، مارکیٹ جانا ہو یا کوئی کام کرنا ہو تو ننھے بچوں کو موبائل فونز پکڑا دیں ۔

تاہم امریکی طبی ماہرین نے اسمارٹ فونز کو بچوں کے دماغ کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئی پیڈ سے کھیلنے والے بچے اپنے جذبات پر قابو پانا نہیں سیکھ پاتے ۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز کا استعمال بچوں میں ضبط قائم نہیں ہونے دیتا تاہم ایپ اور الیکٹرانک کتابیں بچوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں لیکن وہ بھی والدین یا کسی بڑے کی موجودگی کے بغیر دو سے تین سال کی عمر کے بچوں کے لیے بے کار ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر وقت ٹی وی اسکرین کے آگے بیٹھنے والے بچوں کی نہ صرف زبان متاثر ہوتی ہے بلکہ سماجی طور پر بھی یہ پیچھے بھی رہ جاتے ہیں ۔ 

برق رفتار ’’وائی گِگ‘‘ ٹیکنالوجی، ایچ ڈی ویڈیو سیکنڈز میں ڈاؤن لوڈ


دنیا بھر کے صارفین سست وائی فائی سے اتنے ہی پریشان ہیں جتنا انٹرنیٹ کی شروعات پر ٹیلی فون کے ذریعے انٹرنیٹ کھولا جاتا تھا لیکن اب ایک کمپنی نے وائی فائی کے انقلابی رابطے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جس میں ایک ایچ ڈی ویڈیو کو صرف چند سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔ اس عمل میں وائی فائی کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنا کیبل اور تاروں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور اسے وائرلیس گیگابٹ (وائی گِگ) کہا گیا ہے۔ مظاہرے میں ایک ایچ ڈی ویڈیو صرف 4 سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کی گئی۔
لندن:  انٹیل کے مطابق یہ ایک انقلابی طریقہ ہے جو ڈیٹا شیئرنگ کو بدل کر رکھ دے گا۔ وائی گِگ ایک نیا وائی سپیکٹرم ( ریڈیو موج) استعمال کرتا ہے جسے IEEE 802.11ad کا نام دیا گیا ہے جو اس وقت چلنے والے IEEE 802.11ac اور 802.11n بینڈز کی جگہ لے سکے گا اور 60 گیگا ہرٹز چینل پر کام کرتا ہے۔ وائی گِگ ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت آسانی سے ایک گیگا بائٹ ( جی بی ) ڈیٹا ایک سیکنڈ میں وائرلیس کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ انٹیل کے مطابق نہ صرف یہ مروجہ وائرلیس بینڈ پر کام کرتی ہے بلکہ ایک تکینک ’’بیم فارمنگ‘‘ کو بھی سپورٹ کرتی ہے جو عموماً سنسر اور سمتی سگنل ٹرانسمیشن کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی حد صرف 10 میٹر یا 32 فٹ ہے جو بہت کم ہے لیکن طویل فاصلوں پر وائی فائی سگنل بھیجنے کیلئے ایک اور بینڈ IEEE 802.11ah موزوں ہے جو کم توانائی استعمال کرتا ہے لیکن بہت سست ہے۔ یہ دیہی اور دور دراز علاقوں کیلئے مناسب ہے جہاں انٹرنیٹ نہ ہونے کے برابر ہو۔
-

لائی فائی سے ایک سیکنڈ میں 23 فلمیں ڈاﺅن لوڈ


ٹاپسو کے مطابق لائی فائی کی رفتار وائی فائی کے مقابلے میں سوگنا زیادہ ہے
پیرس (ویب ڈیسک) فرانس کی ایک لائی فائی اسٹارٹ اپ کمپنی اولیڈکوم نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی وائرلیس انٹرنیٹ ٹیکنالوجی لائی فائی اتنی تیز ہے کہ اس سے ایک سیکنڈ میں 23 ڈی وی ڈیز ڈاﺅن لوڈ کی جا سکتی ہیں ۔
فرانسیسی کمپنی کی جانب سے بارسلونا میں جاری موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران لائی فائی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ایک ویڈیو اسمارٹ فون پر اسٹریم کرکے کیا گیا ۔ 
ٹاپسو کے مطابق لائی فائی کی رفتار وائی فائی کے مقابلے میں سوگنا زیادہ ہے۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کی حامل ڈیوائسز فی الحال بہت کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ آئندہ چند برسوں میں وائی فائی کی جگہ لائی فائی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے گی ۔

Samsung Galaxy S7, LG G5 Unveiled


BARCELONA: South Korean tech giants Samsung Electronics and LG unveiled Sunday new smartphones with better cameras and turned to virtual reality to boost interest in their headsets at a time of slowing sales.

Samsung launched two versions of its flagship phone, the flat screen Galaxy S7 and the curved screen Galaxy S7 edge, with cameras that can take better pictures under low-light conditions.

The company, the world’s number one smartphone maker, also debuted its first 360 degree camera, the Gear 360, in Barcelona where the mobile industry is gathered for the start of the Mobile World Congress on Monday, in its latest attempt to remain ahead of Apple.

The camera is designed to make it easy to take all-around photos and videos that can be uploaded to Facebook and YouTube, or viewed as immersive experiences on Samsung’s virtual reality Gear VR headsets which went on sale in November.

“User generated 360 degree photos and films are going to see rapid growth in 2016. Numerous 360 degree cameras are being launched and users will want to get access to this content,” said Ben Wood, chief of research at CCS Insight.

“Although it can be viewed on a standard smartphone or PC screen, the most impactful way of looking at this content is with a VR headset — this is undoubtedly going to drive sales of these products.”

Facebook founder and CEO Mark Zuckerberg made a surprise appearance at the Samsung press conference to announce a partnership with the South Korean firm to promote the use of virtual reality on the social network.

“We want to make Facebook the best video platform for virtual reality and Samsung is the only company in the world that can provide a good experience in terms of virtual reality,” he said.

Rival South Korean tech firm LG sought to steal Samsung’s thunder by unveiling its new premium handset, the G5, its first modular smartphone which is made using different components that can be independently upgraded or replaced such as a removable battery.

The G5 comes with several accessories such as a sound system developed by Danish firm Bang & Olufsen and a virtual reality headset which will allow it to compete with a headset launched by Samsung late last year.
© Copyright AGS Updates | Distributed By Free Blogger Templates
Back To Top