Featured

    Visitor

    Social Icons

Loading...

سگریٹ نوشی ڈی این اے پر 30 سال تک اثر انداز ہوتی رہتی ہے


سگریٹ نوشی ڈی این اے پر 30 سال تک اثر انداز ہوتی رہتی ہے

امریکا میں کی گئی تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی ایک دو نہیں بلکہ 7 ہزار انسانی جین کو متاثر کرتی ہے اور یہ تبدیلی اگلے 30 سال تک ڈی این اے میں موجود رہتی ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی ڈی این اے میتھائیلیشن کی وجہ بنتی ہے۔ ڈی این اے میتھائیلیشن وہ عمل ہے جو جین کے کردار کو قابو کرتا ہے۔ اب ماہرین تمباکو نوشی کے اثرات کو ڈی این اے اور جین کی تبدیلی سے بھی پرکھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف امراض کے علاج کی نئی راہیں بھی کھل سکیں گی۔

تحقیقی مقالے کی مرکزی مصنف کا کہنا ہےکہ ’’میتھائیلیشن‘‘ کے عمل کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ جین تبدیل کرکے کئی امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے باوجود بھی اگلے 30 برس تک اس کے اثرات جین میں موجود رہتے ہیں۔

اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں تمباکو نوشی کی شرح کم ہوئی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے مضر اثرات ایک طویل عرصے تک انسانی جسم کو متاثر کرتے رہیں گے کیونکہ وہ جین کو بدل دیتے ہیں۔ اس تحقیق کے لیے 16 گروپس میں تقسیم کیے گئے 16 ہزار افراد کو شامل کیا گیا۔ سگریٹ پینے والے افراد کے جسم کے ایک تہائی جین تمباکو نوشی سے متاثر نظر آئے۔ ان میں سے ڈی این اے میں وہ تبدیلیاں ہوئی تھیں جو دل اور کینسر کے امراض کی وجہ بن سکتی ہیں۔ مطالعے کے بعد ماہرین نے زور دیا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کی عادت نہ اپنائی جائے کیونکہ اسے ترک کرنے کے بعد بھی لوگ مختلف امراض کے شکار ہوسکتے ہیں۔

ورزش سے اپنے دل کو مضبوط بنایں


ورزش سے اپنے دل کو مضبوط بنایں

ورزش کرنے سے انسان چاک و چوبند اور تندرست و توانا رہتا ہے - اب اس بارے میں ماہرین صحت نے ایک نئی تحقیق کی ہے جس کے مطابق اگر ہفتے میں تین سے پانچ گھنٹے ورزش کی جاۓ تو انسان کا دل زیادہ نشو و نما پاتا ہے - جو افراد روزانہ ورزش کرتے ہیں یا بھاگتے ہیں ان کے نہ صرف دل عام لوگو ں کے دل سے بڑھے ہوتے ہیں - بلکہ ان کی دل کی رگیں تک کشادہ اور کھلی ہوتی ہیں

یہاں اس غلط فہمی کا بھی تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ اسے دل کا بڑھنا سمجھتے ہیں جو کہ ایک بیماری ہے - مگر ایسے افراد جو روزانہ ورزش کرتے ہیں ان کے دل کا بڑھا سائز ہونا ایک بیماری نہیں ہے بلکہ یہ دل کی بہتر نشوو نما کو ظاهر کرتا ہے- ایسے افراد جو روزانہ ورزش نہیں کرتے ہیں انھیں چاہئیے کہ وہ ورزش جیسی مفید عادت کو اپنا کر اپنے آپ کو مہلک امراض سے دور رکھیں

انڈونیشیا میں پایا جانے والا پھل پتھری کے خاتمے میں مؤثر


شکاگو،: نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جانے والا ایک کھٹا رسدار پھل بہت تیزی سے گردے کی پتھری کو ختم کرسکتا ہے۔

یہ تحقیق گزشتہ 3 عشروں میں گردوں کی پتھری کے مؤثر علاج میں اہم ترین پیش رفت ہے جس سے پتا چلا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا اور خصوصاً انڈونیشیا میں اگنے والا پھل ’’گارسینیا کمبوگیا‘‘ میں ایک اہم مرکب پایا جاتا ہے جسے ہائیڈروآکسی سٹریٹ (ایچ سی اے) کہا جاتا ہے ۔ یہ مرکب ایک جانب تو گردے میں پتھری بننے سے روکتا ہے تو دوسری جانب گردے میں موجود پتھری کو گُھلا کر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا بھر میں 12 فیصد مرد اور 7 فیصد خواتین گردے میں پتھری کی شکار ہوجاتی ہیں۔ عموماً ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد میں پتھری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ گردے کی پتھری کیلشیئم آکسیلیٹ سے بنی ہوتی ہے اور گارسینا کمبوگیا اسے روکنے اور ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ماہرین نے گردے میں پتھری کے شکار مریضوں کو 3 روز تک گارسینیا پھل سے اخذ کردہ ایچ سی اے سپلیمنٹ دی جس کے متاثر کن نتائج نکلے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گردوں میں پتھری کے مریض زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور بادام وغیرہ سے دوررہیں کیونکہ ان میں آکسیلیٹ کی زائد مقدار موجود ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مریضوں کو پوٹاشیئم سائٹریٹ دیتے ہیں جو پتھری کی افزائش روکتی ہے لیکن اس کے سائیڈ افیکٹ دردناک ہوتے ہیں۔


امریکی طبی ماہر نے بتایا ہے کہ پھل میں موجود ایچ سی اے مرکب کو 3 روز تک گردے میں پتھری والے مریضوں کو کھلایا گیا۔ اس سے قبل لیبارٹری میں چوہوں پر کیے گئے تجربات میں بھی اس کے اہم نتائج ملے تھے اور پتھری کو حل کردیا تھا۔ جن مریضوں نے یہ سپلیمنٹ لیا ان کی پیشاب میں پھتری کے ذرات کی بڑی مقدار ظاہر ہوئی۔

انسانی ناک سے دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والے جراثیم دریافت


جرمنی: جرمنی کے سائنسدانوں نے انسانی ناک میں دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والے جراثیم دریافت کر لیے ہیں اور یہ اینٹی بایوٹک سب سے سخت جان جرثوموں کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہونے کی امید ہے۔

اینٹی بایوٹک دواؤں کے خلاف جرثوموں میں بڑھتی ہوئی مزاحمت ایک سنگین طبّی مسئلہ بنتی جارہی ہے ان میں سرِفہرست ’’ایم آر ایس اے‘‘ کہلانے والے جراثیم ہیں جن کے خلاف اب تک کی طاقتور ترین اینٹی بایوٹکس بھی اثرانداز نہیں ہوتیں۔ جرمنی کی توبنجن یونیورسٹی کے ماہرین نے انسانی ناک میں دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والی جراثیم دریافت کیے ہیں جسے ’’لگڈیونین‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو ’’ایم آرایس اے‘‘ تک کو ہلاک کرسکتی ہے۔ اس دریافت کا اعلان مشہور و معتبر تحقیقی مجلے ’’نیچر‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں کیا گیا ہے۔ لگڈیونین کو اب تک چوہوں پر بڑی کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے اور انسانوں پر اس کی آزمائشیں شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

اب تک بیشتر اینٹی بایوٹک دوائیں مٹی میں رہنے والے بیکٹیریا سے حاصل کی جاتی رہی ہیں مگر اب ان سے کسی نئے اور زیادہ مؤثر مرکب کی تلاش مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ مٹی کی طرح انسانی جسم میں بھی ہزاروں اقسام کے خردبینی جاندار پائے جاتے ہیں جنہیں مجموعی طور پر ’’مائیکروبایوم‘‘ کہا جاتا ہے۔


مختلف مطالعات سے یہ معلوم ہوا تھا کہ اسپتالوں میں داخل 30 فیصد مریضوں کی ناک میں ایم آر ایس اے موجود ہوتا ہے جب کہ 70 فیصد کی ناک میں یہ جرثومہ نہیں ہوتا۔ اس سے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انسانی ناک میں یقیناً کچھ ایسے بیکٹیریا ضرورہوتے ہیں جو یہاں ایم آر ایس اے کو پنپنے ہی نہیں دیتے۔ لگڈیونین خارج کرنے والے جرثوموں کی دریافت نے اس خیال پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔

پیٹری ڈش میں کیے گئے تجربات میں یہ نئی اینٹی بایوٹک، ایم آر ایس اے کے علاوہ دوسری کئی اقسام کے سخت جان جرثوموں کے خلاف بھی یکساں طور پر کارآمد دیکھی گئی۔ اور تو اور لگڈیونین کے خلاف جرثوموں میں مزاحمت بھی پیدا نہیں ہوسکی۔ یہ دریافت ایسے حالات میں ہوئی ہے جب ساری دنیا کے طبّی ماہرین نئی اور بہتر اینٹی بایوٹک تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت نئی اینٹی بایوٹکس کی بہت کم تعداد طبّی آزمائشوں کے مختلف مرحلوں سے گزر رہی ہے۔

اس دریافت نے جہاں ایک نئی اور زیادہ طاقتور اینٹی بایوٹک دوا کی امید پیدا کی ہے وہیں انسانی جسم میں قدرتی طور پر پائے جانے والے جرثوموں کا مجموعہ یعنی ’’ہیومن مائیکروبایوم‘‘ مزید نئی اور مؤثر دواؤں کے متوقع ماخذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

زکام کے علاج کے لیے ’’ہرفن مولا‘‘ ویکسین کی تیاری


واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے ویکسین سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کی 3 ایسی اقسام دریافت کرلی ہیں جو انسانوں کو لاحق ہونے والے کئی طرح کے زکام کا علاج کرسکتی ہیں۔

یہ انکشاف امریکا میں طب و صحت کے دو بڑے اداروں نے ایک مشترکہ تحقیق کے بعد کیا ہے جس سے اب ایک ایسی ویکسین تیار ہونے کی امید پیدا ہوچلی ہے کہ جو انفلوئنزا کی پرانی اور نئی تمام اقسام کے خلاف یکساں طور پر مؤثر ہوگی۔ انفلوئنزا وائرس بڑی تیزی سے اپنی شکلیں بدلنے اور نت نئی اقسام میں ڈھلنے کی خطرناک صلاحیت رکھتا ہے۔ انفلوئنزا کا علاج کرنے والی ویکسین ایک سے 2 سال میں ناکارہ ہوجاتی ہے کیونکہ اس دوران انفلوئنزا وائرس خود کو بہت زیادہ تبدیل کرچکا ہوتا ہے۔ اس کے باعث پرانی ویکسین اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پاتی اور تبدیل شدہ انفلوئنزا وائرس کے لیے نئی ویکسین تیار کرنا پڑتی ہے۔

انفلوئنزا یعنی زکام کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بیسویں صدی کی ابتداء سے لے کر اب تک اس کی 5 عالمی وبائیں پھیل چکی ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں کم از کم ڈھائی کروڑ اموات واقع ہوئی ہیں۔ انفلوئنزا کے خلاف ’’ہر فن مولا ویکسین‘‘ (یونیورسل ویکسین) کی تیاری سے ہر سال نئی انفلوئنزا ویکسین تیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ ویکسین اگر ایک بار بھی تیار کرلی گئی تو وہ متوقع طور پر انفلوئنزا کی نہ صرف موجودہ اور پرانی بلکہ مستقبل میں آنے والی تمام نئی اقسام کے خلاف بھی مؤثر رہے گی۔

ملیریا سے لے کر کینسر تک کا پتا لگانے والی جدید ’’کاغذی پٹی‘‘ کا تجربہ



اوہایو: امریکی ماہرین آج کل ایک ایسی کاغذی پٹی پر تجربات کرنے میں مصروف ہیں جو ملیریا سے لے کر کینسر تک، کسی بھی بیماری کی تشخیص کرسکے گی۔

اس تکنیک کے موجد اور اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بطورِ خاص افریقہ اور ایشیاء کے اُن علاقوں میں رہنے والوں کے لیے مفید ہے جہاں جدید تجربہ گاہیں موجود نہیں۔ ماہر پروفیسر کے مطابق’’آپ کو اس پٹی پر اپنے خون کا صرف ایک قطرہ ٹپکانا ہوگا، اور قریبی لیبارٹری پہنچا دینا ہوگا (جہاں اس کاغذی پٹی کو جانچنے کی سہولت موجود ہوگی)۔ وہاں منٹوں میں بیماری ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کرلی جائے گی۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس کاغذی پٹی کو بذریعہ ڈاک بھی ارسال کیا جاسکے گا۔ خون کا قطرہ ٹپکائے جانے کے بعد، یہ پٹی (بیماری کی تشخیص کے لیے) ایک مہینے تک کارآمد رہے گی۔

ماہرین کے مطابق عام کاغذی پٹیوں کو خاص طرح کے حیاتی کیمیائی مرکبات سے تربتر کرکے خشک کرلیا گیا، اور یہ ’’تشخیصی کاغذی پٹی‘‘ تیار کرلی گئی جو فی الحال صرف ملیریا کی تشخیص میں کارگر ہے۔ پٹی کے مؤجد کا کہنا ہےکہ مرکبات کی نوعیت تبدیل کرکے ان پٹیوں کو کسی بھی مرض کی تشخیص کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔

انار میں چھپی وہ خوبیاں جن سے آپ اب تک لاعلم تھے


سوئزرلینڈ: انار میں صحت مند اور طویل زندگی کا راز چھپا ہے اور اب اس لذیذ پھل میں ایک نیا جزو دریافت ہوا ہے جو بڑھاپے کو دور رکھتے ہوئےعمر کو بھی بڑھاتا ہے۔

ماہرین نے اس نئی دریافت کو معجزانہ قرار دیا ہے۔ اسے دریافت کرنے والے سوئزرلینڈ کے ماہرین کا کہنا ہےکہ بڑھاپے کو دیرتک ٹالنے کے سلسلے میں ان کی تحقیق ایک اہم سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق انار میں دریافت نئے اجزا پٹھوں اور مسلز کو جوان رکھتے ہیں اور بوڑھے لوگ ان کے استعمال سے کسی کے محتاج نہیں رہتے۔

ماہرین کے مطابق ہمارے خلیوں میں ایک اہم حصہ مائٹوکونڈریا ہوتا ہے جو اسے توانائی فراہم کرتے ہوئے بیٹری کا کام کرتا ہے، انار کے استعمال سے عمر کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتا ہوا مائٹوکونڈریا بہت دیر تک توانا رہتا ہے اور پٹھے تادیر مضبوط رہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انار میں موجود یہ کیمیکل آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا سے مل کر یورولیتھن اے بناتا ہے اور خلیات کو جوان اور پٹھوں کو مضبوط رکھتا ہے، انارہڈیوں کو مضبوط بنانے، دل کو طاقت دینے اور بلڈ پریشر بھی کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوئے ہیں۔

کھجورکے وہ حیرت انگیزطبی فوائد جن سے ہم اب تک لاعلم تھے


کھجورکو قدرت نے بے شمار غذائیت اورخصوصیات سے نوازا ہے جب کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا بھی موجود ہے۔
کھجورمیں بے شماراقسام کے وٹامنزاورمعدنیات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کھجورکو توانائی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی مانا جاتا ہے جب کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا بھی موجود ہے، کھجور میں موجود بہت سے معدنیات انسانی جسم کے لیے انتہائی اہم ہیں لہذا ہم آپ کوکھجور کے وہ طبی فوائد بتارہے ہیں جن سے آپ اب تک لا علم تھے ۔

قبض کے مرض کے لیے
قبض کی شکایات بہت سے لوگوں رہتی ہے اور اس بیماری سے نجات کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں لیکن طبی ماہرین کے مطابق کھجور کا استعمال قبض کی شکایات کو دور کرتا ہے لہذا کھجوروں کو رات بھر پانی میں بھگو کررکھیں اور صبح نہار منہ اس کو کھالیں۔

مظبوط ہڈیوں کے لیے
کھجور میں شامل معدنیات کی وجہ سے اس کو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم غذا مانا جاتا ہے کیونکہ کھجور میں شامل معدنیات جس میں میگنیشم، کاپر اور میگنیس شامل ہوتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی اور نشونما کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ بالخصوص بوڑھے افراد جن کی ہڈیاں عمر کے ساتھ ساتھ کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھجور کا استعمال کریں۔

الرجی سے بچاؤ کے لیے
کھجوروں کا ایک اہم فائدہ اس میں موجود سلفر ہے جو کہ دوسری غذاؤں میں آسانی کے ساتھ نہیں پایا جاتا لہذا جو افراد موسمیاتی الرجی کا شکار ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھجور کا استعمال کریں۔ 2002 میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آرگانک سلفر ایسے تمام لوگوں کے انتہائی مفید کے جنہیں موسمیاتی الرجیزکا سامنارہتاہے جب کہ امریکا میں تقریباً 23 ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں۔

وزن میں اضافے کے لیے
کھجور پروٹینز اور وٹامنز سے بھرپور غذا ہے، ایک کلو کھجور میں تقریباً 3 ہزار کیلوریز پائی جاتی ہیں لہذا ایسے افراد جو اپنا وزن بڑھانا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھجوروں کا استعمال کریں۔

صحت مند دل کے لیے
اگر چاہتے ہیں کہ آپ کا دل ہمیشہ توانا اور صحتمند رہے تو آپ کو کھجور کا استعمال شروع کردیناچاہیے کیونکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھجور کا استعمال کمزور دل کے لیے انتہائی مفید ہے جب کہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کھجور سے دل کے دورے سمیت دیگر امراض پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے افراد میں ہڈیوں کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق


اوسلو: طبی ماہرین کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے اور پیدائش کے وقت کمزور افراد میں دیگر کے مقابلے میں ہڈیوں کی بیماری آسٹیو پراسس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

طبی زبان میں آسٹیوپراسس اس بیماری کو کہتے ہیں جس میں انسان کی ہڈیاں کمزور اور بھربھری ہوجاتی ہیں۔ ناروے کی اعلی درسگاہ نارویجین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے منسلک ماہرین نے لوگوں میں ہڈیوں کے بھربھرے پن سے متعلق تحقیق کی، جس میں انہوں نے ہزاروں افراد کے مکمل طبی ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ لوگ جو قبل از وقت پیدا ہوتے یا یا پیدائش کے وقت کمزور ہوتے ہیں، ان میں بڑا ہونے پر دوسروں کے مقابلے میں آسٹیو پراسس کا امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوران حمل آخری ہفتوں میں ماں اپنے بطن میں موجود بچے کو کیلشئیم منتقل کرتی ہے جس سے بچے کی ہڈیوں کو مضبوطی ملتی ہے لیکن جب بچہ وقت سے پہلے دنیا میں آتا ہے تو اس کی ہڈیوں میں کیلشئیم کی منتقلی مکمل نہیں ہوپاتی جس سے اس کی ہڈیاں کمزور رہتی ہیں۔ کیلشئیم کی یہ کمزوری ان میں بلوغت کے بعد اپنے اثرات دکھاتی ہے اور وہ بتدریج آسٹیوپراسس کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آئی بی ایم کا تیارکردہ مالیکیول جو ہر مرض کے وائرس کو بے اثرکرسکتا ہے


سنگاپور: ایبولہ، زیکا، ایڈز اور دیگر خوفناک امراض وائرس سے پھیلتےہیں اور اپنی الگ الگ ساخت کی بنا پر ان کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے لیکن ماہرین نے تجربہ گاہ میں ایسا مالیکیول تیار کیا ہے جو ہر قسم کے وائرس کو ناکارہ اور بےاثر بناسکتا ہے۔

سنگاپور میں آئی بی ایم سے وابستہ بایو انجینیئرنگ اور نینوٹیکنالوجی ماہرین نے مصنوعی طور پر ایک سالمہ ( مالیکیول) بنایا ہے جو ہر قسم کے وائرس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس پرایک رپورٹ متعلقہ تحقیقی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس کے لئے ماہرین نے وائرس کے ڈی این اے اور آراین اے کو نظر انداز کردیا ہے کیونکہ ہر وائرس میں یہ الگ الگ ہوتے ہیں ۔ اس کی بجائے انہوں نے وائرس کے گلائیکوپروٹینز کو نشانہ بنایا ہے جو تمام وائرس کی بیرونی اطراف پر پائے جاتے ہیں اور جسمانی سیلز سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ مالیکیول الیکٹرواسٹیٹک چارج کی بنا پر وائرس کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور انہیں صحت مند خلیات پر حملہ کرنے سے روکتا ہے۔ جیسے ہی یہ وائرس سے چپکتا ہے تو اس کے پھیلنے کی صلاحیت بھی کم کردیتا ہے۔ اس مالیکیول میں مینوس شوگر بھی موجود ہے جو بیماری سے لڑنے والے امنیاتی خلیات سے چپک جاتی ہے اور انہیں وائرس کی جانب دھکیل کر انفیکشن پھیلنے سے روکتی ہے۔

تجربہ گاہ میں اس مالیکیول کو ایبولہ اور ڈینگی وائرس پر آزمایا تو عین وہی نتائج برآمد ہوئے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اسے ایک دوا کی صورت میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے جس کے بعد ایبولہ، زیکا اور ایڈز جیسے امراض کا علاج کیا جاسکے گا۔

Education, Awareness, and Charity

Many communities have amazing walking and running events to celebrate holidays such as 4th of July, Veteran's Day, and Thanksgiving. Loving to run and inspired at the thought of bringing such an event to my small town, the idea of a turkey trot hopped into my head. I had participated in several in other towns and my family and I had created one or two when we were in an area that did not offer such a fun-run, I had the background knowledge and the desire. With a little conversation with our mayor and city council, the high school cheerleaders and wrestlers and a few friends, the local Thanksgiving morning walk/run transformed from a sketch and a doodle into a firm reality. The day and the place were easy and the charity to benefit from registration proceeds was easier. Being a volunteer for Alzheimer's and our local hospice and wanting to spread awareness, we were off and running, so to speak, with a wonderful beneficiary as well.
The local hospital provided some up-front funding for long-sleeved shirts and a local business designed and printed them for us with Alzheimer's purple as a primary eye-catcher. Other organizations donated raffle prizes, water, chocolate milk, and bananas. The high school let us start and end on the track at the football field with the vice-principal as our announcer and the local police made sure cars looked out for participants along the route. The cheerleaders spread out along the course to cheer, offer support, and separate the 3K, 5K, and 8K walkers and runners. That is one of the advantages of a small community: everyone cares and is willing to pitch in to bring success.
Because the wrestlers already run on Thanksgiving morning, they were the logical and perfect begin to the event. Lining up at the starting line, their bright blue running gear stood out against the fresh skiff of icy, white snow. While 1* had been forecast, a delightful 23* took its place. With everyone bundled and excited we sang a rough version of the national anthem and then zipped into action. As walkers and runners exited the field and took to the streets, volunteers raced to set up the raffle drawing and snacks for after the walk/run. Within one deep breath, the first 3K runners entered the stadium - father and son - to the cheers of our remaining crowd. Just a few seconds later the rest of the participants started pouring onto the track for their victory lap, cheers, goodies, and smiles. Invigorated by it all, my heart soared thinking of the good that had been produced by a group of locals who care about our community. "Far out, man!"
Some of the greatest aspects were the thanks, the happiness, the enthusiasm of everyone in attendance. Thrilled with an early morning excursion, they were ready to head home for a yummy dinner. Parting words of encouragement set me into motion for next year's turkey trot. An annual celebration is now in place.

You Really Can Take Care of Your Child's Health and Here's How

One of the major issues that concerns a parent is the health of his/her child. Being the most important duty of a parent is to motivate a child to lead a healthy life, parents can have a positive impact on the health of their children simply by setting a beneficial example. Being a single person or in a relationship without children, it would probably be a tough task to sort out the difficulties other people of your age have when it comes to ensuring good health to a Child. But all we think about is how stressful it is and how to allocate quality time being around them. However, if you are a parent, it becomes even more stressful to look after them while you have to go to work!

But, the most wonderful experience one could get in a lifetime is just about being a parent. To watch your child prosper daily with good nutrition and self-independence is quite a thrill. On reading a couple of Child care literature material which provides you with tips on child care and parenthood, the role of being a parent can prove to be an amazing one. With some families, it could be more effective for one parent to stay home and look after the child.

Encouraging your child to take part in physical activities on a regular basis is very essential. Parents should also convince them to imbibe this activity as a part of their lives. It becomes even safer to accompany your children on a daily walk as it is an exercise that is considered to keep them in good shape. It is very important to consult a physician whenever a child is likely to have a problem related to the health. However minor the problem seems it is advisable to seek a physician's help since, they are delicate and require special attention.

A lot of planning and coordinating occurs no matter which phase your child is in. So, always make sure you are prepared to provide them the best of everything, watching them prosper healthy and fit. There is no mandatory rule as doing a lot of research when it comes to the wellbeing of your child. Take your own quality time researching, without failing to get an early start so as to feel fresh and healthy as they grow along with you for a lifetime. It is one of the important things to remember.
© Copyright AGS Updates | Distributed By Free Blogger Templates
Back To Top