Featured

    Visitor

    Social Icons

Loading...

فیس بُک پر پرانی پوسٹس کیسے چھپائیں


فیس بُک پر پرانی پوسٹس کیسے چھپائیں

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک میں ایک ایسا ٹول موجود ہے جس کی مدد سے آپ اپنی پرانی پوسٹس کو چھپا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک پر صارفین کی ماضی کی کچھ پوسٹس ایسی ہوتی ہیں جو انھیں یاد بھی نہیں ہوتیں لیکن ان کو اب دیکھ کر شرمندگی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس شرمندگی سے بچنا بہت آسان ہے۔ فیس بُک نے ایک ٹول ایسا رکھا ہوا ہے جو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے فیس بُک کے پیج کے اوپر دائیں جانب موجود سیکیورٹی لاک کے آئیکون پر کلک کریں اور پھر سی مور سیٹنگ  کے آپشن کا انتخاب کریں۔ وہاں آپ لمٹ پاسٹ پوسٹس کے آپشن پر کلک کریں تو آپ کے سامنے آ جائے گا جس کی تصویر نیچے ہے، وہاں لمٹ اولڈ پوسٹ کے بٹن پر کلک کرکے پرانی پبلک پوسٹس کی دستیابی صرف دوستوں تک محدود کر دیں۔ اسی طرح اپنی ٹائم لائن کی سیٹنگز کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک بار پھر سیکیورٹی لاک پر جائیں اور ٹائم لائن پھر کلک کرکے ٹیگنگ سیٹنگز پر چلے جائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہلا، چوتھا، پانچواں اور ساتواں آپشن فرینڈز یا جس کو آپ ترجیح دیں پر سیٹ ہو۔

آئی فون سیون کے اہم فیچرز


آئی فون سیون کے اہم فیچرز 

ایپل نے آئی فون سیون میں کافی تبدیلیاں کی ہیں جیسا کہ ہوم بٹن کا ختم کر دینا، ہیڈ فون جیک اور اے نائن چپ وغیرہ - چونکہ دنیا میں ایپل پروڈکٹس کو ایک مخصوص مقام حاصل ہے اس لیے ایپل صارفین آنے والے ماڈلز کے لیے شدت سے انتظار کرتے ہیں- ذیل میں آئی فون سیون اور آئی فون سیون پلس کے اہم فیچرز درج کے جاتے ہیں

واٹر پروف سسٹم 

تین فٹ تک گہرے پانی میں آئی فون سیون پانی کے خلاف مزاحمت کر سکتا ہے اور پانی اس گہرائی تک نقصان نہں پہنچا سکتا - تین فٹ سے زیادہ گہرے پانی میں زیادہ دباؤ کی وجہ سے پانی آئی فون سیون کو متاثر کر سکتا ہے

فرنٹ سکرین 

آئی فون سیون میں جو سکرین پیش کی جا رہی ہے وہ پوری فرنٹ سائیڈ کا احاطہ کیے ہوے ہے جو کہ ایک زبردست فیچر ہے اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث ہے



دھرا کیمرہ 

دو تصویروں کو جوڑنے کے لیے ایپل نے دھرا کیمرہ متعارف کروایا ہے جو کہ کوئی بھی دو تصویروں کو ایک تصویر میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے - یہ کیمرہ صرف آئی فون سیون پلس میں ہی دستیاب ہے

جدید الیکٹرونک چپ 

آئی فون کے پچھلے ماڈلز میں اے نائن چپ کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ آئی فون سیون اور سیون پلس میں اے ٹین الیکٹرونک چپ کا استعمال اسے مزید تیز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس کی سپیڈ ٢.٤٥ گیگا ہرٹز تک پہنچ جاۓ گی

ہیڈ فون جیک کا خاتمہ 

نئے آئی فون سیون میں ھیڈ فون جیک کا خاتمہ کر کے اس کے متبادل لاٹننگ کنیکٹر متعارف کرایا جا رہا ہے جو ایک نہایت اہم فیچر ہے

ہیپٹک بٹن 

ہوم بٹن کو ختم کر کے اس کی جگہ ہیپٹک بٹن متعارف کرایا گیا ہے - ہوم بٹن کا خاتمہ واٹر پروفنگ کے لیے عمل میں لایا گیا ہے

خواتین کے دل کی بے ترتیب دھڑکن زیادہ خطرناک ہے ، تحقیق


خواتین کے دل کی بے ترتیب دھڑکن زیادہ خطرناک ہے ، تحقیق

انگلینڈ کی ایک یونیورسٹی میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ خواتین کے دل کی بے ترتیب دھڑکن مردوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہے- جو خواتین بغیر کسی ظاہری دل کے عضلات کی بیماری میں مبتلا ہوں ان میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ دوگناہ ہو جاتا ہے- تحقیق سے اس بات کا بھی پتا چلا ہے کہ جن خواتین میں دل کی دھڑکن کا تسلسل کبھی برقرار رہتا ہے اور کبھی تسلسل کا پتہ ہی نہ چلے یا پھر ان کی نبض میں بھی تسلسل برقرار نہ ہو ان کے لیے خطرے کی کوئی بات نہیں ہے- لیکن اگر دھڑکن کا تسلسل مسلسل طور پر غیر مسلسل ہے تو پھر ڈاکٹر سے لازمی طور پر رجو ع کرنا چاہئیے - مسلسل تسلسل کو جانچنے کے لیے کچھ علامات بھی ہیں جیسا کہ سر چکرانا یا پھر سانس کا مختصر ہونا ہے- اس کے علاوہ آرام کی حالت میں بھی دل کی دھڑکن کافی تیز ہو سکتی ہے یعنی کہ فی منٹ میں تقریباً ایک سو مرتبہ

انسٹا گرام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت


انسٹا گرام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت

انسٹا گرام ایک فوٹو شیئرنگ ایپ ہے جو اب مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے- یہ اب زیادہ استعمال ہونے والی ایپس میں چوتھے نمبر پر آ گئی ہے-انسٹا گرام کو گوگل پلے اسٹور پر ایک ارب سے زیادہ مرتبہ ڈوونلوڈ کی جا چکی ہے- ٢٠١٥ کے آخر میں اینڈرائڈ فون یوزرز کی تعداد ١.٤ ارب تھی- انسٹا گرام کی طرف سے ایک پریس بریفنگ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ انسٹا گرام کے ماہانہ صارفین کی تعداد پچاس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے- اور اس ایپ کے ڈیلی یوزرز کی تعداد تیس کروڑ سے زائد ہے

گزشتہ چند مہینوں میں انسٹا گرام میں کافی تبدیلیاں بھی کی جا چکی ہیں- جیسا کہ لوگو اور ڈیزائن کا تبدیل ہونا، نئی الگورتھم ٹائم لائن کا متعارف کرانا، سنیپ چیٹ جیسا سٹوریز فیچر کا شامل ہونا وغیرہ وغیرہ- سٹوریز فیچر عارضی سلائڈ شوز کی تیاری میں معاون ہے- اور یہ چوبیس گھنٹے بعد خود بخود ڈیلیٹ ہو جاتا ہے- نئی الگورتھم ٹائم لائن میں پوسٹس کو وقت کی بجاے یوزرز کے انٹرسٹ کے لحاظ سے شو کیا جاتا ہے

ورزش سے اپنے دل کو مضبوط بنایں


ورزش سے اپنے دل کو مضبوط بنایں

ورزش کرنے سے انسان چاک و چوبند اور تندرست و توانا رہتا ہے - اب اس بارے میں ماہرین صحت نے ایک نئی تحقیق کی ہے جس کے مطابق اگر ہفتے میں تین سے پانچ گھنٹے ورزش کی جاۓ تو انسان کا دل زیادہ نشو و نما پاتا ہے - جو افراد روزانہ ورزش کرتے ہیں یا بھاگتے ہیں ان کے نہ صرف دل عام لوگو ں کے دل سے بڑھے ہوتے ہیں - بلکہ ان کی دل کی رگیں تک کشادہ اور کھلی ہوتی ہیں

یہاں اس غلط فہمی کا بھی تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ اسے دل کا بڑھنا سمجھتے ہیں جو کہ ایک بیماری ہے - مگر ایسے افراد جو روزانہ ورزش کرتے ہیں ان کے دل کا بڑھا سائز ہونا ایک بیماری نہیں ہے بلکہ یہ دل کی بہتر نشوو نما کو ظاهر کرتا ہے- ایسے افراد جو روزانہ ورزش نہیں کرتے ہیں انھیں چاہئیے کہ وہ ورزش جیسی مفید عادت کو اپنا کر اپنے آپ کو مہلک امراض سے دور رکھیں

انڈونیشیا میں پایا جانے والا پھل پتھری کے خاتمے میں مؤثر


شکاگو،: نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جانے والا ایک کھٹا رسدار پھل بہت تیزی سے گردے کی پتھری کو ختم کرسکتا ہے۔

یہ تحقیق گزشتہ 3 عشروں میں گردوں کی پتھری کے مؤثر علاج میں اہم ترین پیش رفت ہے جس سے پتا چلا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا اور خصوصاً انڈونیشیا میں اگنے والا پھل ’’گارسینیا کمبوگیا‘‘ میں ایک اہم مرکب پایا جاتا ہے جسے ہائیڈروآکسی سٹریٹ (ایچ سی اے) کہا جاتا ہے ۔ یہ مرکب ایک جانب تو گردے میں پتھری بننے سے روکتا ہے تو دوسری جانب گردے میں موجود پتھری کو گُھلا کر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا بھر میں 12 فیصد مرد اور 7 فیصد خواتین گردے میں پتھری کی شکار ہوجاتی ہیں۔ عموماً ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد میں پتھری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ گردے کی پتھری کیلشیئم آکسیلیٹ سے بنی ہوتی ہے اور گارسینا کمبوگیا اسے روکنے اور ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ماہرین نے گردے میں پتھری کے شکار مریضوں کو 3 روز تک گارسینیا پھل سے اخذ کردہ ایچ سی اے سپلیمنٹ دی جس کے متاثر کن نتائج نکلے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گردوں میں پتھری کے مریض زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور بادام وغیرہ سے دوررہیں کیونکہ ان میں آکسیلیٹ کی زائد مقدار موجود ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مریضوں کو پوٹاشیئم سائٹریٹ دیتے ہیں جو پتھری کی افزائش روکتی ہے لیکن اس کے سائیڈ افیکٹ دردناک ہوتے ہیں۔


امریکی طبی ماہر نے بتایا ہے کہ پھل میں موجود ایچ سی اے مرکب کو 3 روز تک گردے میں پتھری والے مریضوں کو کھلایا گیا۔ اس سے قبل لیبارٹری میں چوہوں پر کیے گئے تجربات میں بھی اس کے اہم نتائج ملے تھے اور پتھری کو حل کردیا تھا۔ جن مریضوں نے یہ سپلیمنٹ لیا ان کی پیشاب میں پھتری کے ذرات کی بڑی مقدار ظاہر ہوئی۔

انسانی ناک سے دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والے جراثیم دریافت


جرمنی: جرمنی کے سائنسدانوں نے انسانی ناک میں دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والے جراثیم دریافت کر لیے ہیں اور یہ اینٹی بایوٹک سب سے سخت جان جرثوموں کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہونے کی امید ہے۔

اینٹی بایوٹک دواؤں کے خلاف جرثوموں میں بڑھتی ہوئی مزاحمت ایک سنگین طبّی مسئلہ بنتی جارہی ہے ان میں سرِفہرست ’’ایم آر ایس اے‘‘ کہلانے والے جراثیم ہیں جن کے خلاف اب تک کی طاقتور ترین اینٹی بایوٹکس بھی اثرانداز نہیں ہوتیں۔ جرمنی کی توبنجن یونیورسٹی کے ماہرین نے انسانی ناک میں دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والی جراثیم دریافت کیے ہیں جسے ’’لگڈیونین‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو ’’ایم آرایس اے‘‘ تک کو ہلاک کرسکتی ہے۔ اس دریافت کا اعلان مشہور و معتبر تحقیقی مجلے ’’نیچر‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں کیا گیا ہے۔ لگڈیونین کو اب تک چوہوں پر بڑی کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے اور انسانوں پر اس کی آزمائشیں شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

اب تک بیشتر اینٹی بایوٹک دوائیں مٹی میں رہنے والے بیکٹیریا سے حاصل کی جاتی رہی ہیں مگر اب ان سے کسی نئے اور زیادہ مؤثر مرکب کی تلاش مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ مٹی کی طرح انسانی جسم میں بھی ہزاروں اقسام کے خردبینی جاندار پائے جاتے ہیں جنہیں مجموعی طور پر ’’مائیکروبایوم‘‘ کہا جاتا ہے۔


مختلف مطالعات سے یہ معلوم ہوا تھا کہ اسپتالوں میں داخل 30 فیصد مریضوں کی ناک میں ایم آر ایس اے موجود ہوتا ہے جب کہ 70 فیصد کی ناک میں یہ جرثومہ نہیں ہوتا۔ اس سے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انسانی ناک میں یقیناً کچھ ایسے بیکٹیریا ضرورہوتے ہیں جو یہاں ایم آر ایس اے کو پنپنے ہی نہیں دیتے۔ لگڈیونین خارج کرنے والے جرثوموں کی دریافت نے اس خیال پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔

پیٹری ڈش میں کیے گئے تجربات میں یہ نئی اینٹی بایوٹک، ایم آر ایس اے کے علاوہ دوسری کئی اقسام کے سخت جان جرثوموں کے خلاف بھی یکساں طور پر کارآمد دیکھی گئی۔ اور تو اور لگڈیونین کے خلاف جرثوموں میں مزاحمت بھی پیدا نہیں ہوسکی۔ یہ دریافت ایسے حالات میں ہوئی ہے جب ساری دنیا کے طبّی ماہرین نئی اور بہتر اینٹی بایوٹک تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت نئی اینٹی بایوٹکس کی بہت کم تعداد طبّی آزمائشوں کے مختلف مرحلوں سے گزر رہی ہے۔

اس دریافت نے جہاں ایک نئی اور زیادہ طاقتور اینٹی بایوٹک دوا کی امید پیدا کی ہے وہیں انسانی جسم میں قدرتی طور پر پائے جانے والے جرثوموں کا مجموعہ یعنی ’’ہیومن مائیکروبایوم‘‘ مزید نئی اور مؤثر دواؤں کے متوقع ماخذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

How To Get Clear Flawless Skin


Getting an exclusive appearance is a common dream of all females. For this, the young girls to mature women, all pay a special attention towards dressing, makeup styles and modern fashion trends. These fashion tools are definitely important to give you attention-grabbing appearance but none of them may provide you desired results if your skin is dry, dull and lifeless.

Smooth, flawless and fresh skin play a significant role in enhancing an individual’s personality. There are several skin care products available in the markets, however, I recommend you to not rely on such products.

These chemical based creams and lotions can make your skin radiant temporarily but their side effects will damage the skin cells permanently. To avoid the suspected damages of the commercial products, try following natural tips.

1.  Lemon contains excellent skin bleaching properties. Application of fresh lemon juice for few minutes every day ensures the radiant and flawless skin.

2.  One of the top home remedies for skin fairness is applying the potato juice over the skin. Repeat this remedy every day for at least two weeks to get observable results.


3.  If you are willing to add glory to your skin in just ten minutes, attain the beauty benefits of banana. Take one banana and mash it properly until it becomes a fine paste. Apply this amazing face mask over your facial skin and neck. Wait about ten to fifteen minutes for removing the mask.

4.  Many women find papaya juice mist beneficial to get clear, flawless skin. The application of this excellent juice give your skin a perfect beauty by regenerating the skin and removing the free radicals which cause a number of skin problems.

5.  To deal with the oily skin, use the mixture of cucumber juice and lemon juice.

زکام کے علاج کے لیے ’’ہرفن مولا‘‘ ویکسین کی تیاری


واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے ویکسین سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کی 3 ایسی اقسام دریافت کرلی ہیں جو انسانوں کو لاحق ہونے والے کئی طرح کے زکام کا علاج کرسکتی ہیں۔

یہ انکشاف امریکا میں طب و صحت کے دو بڑے اداروں نے ایک مشترکہ تحقیق کے بعد کیا ہے جس سے اب ایک ایسی ویکسین تیار ہونے کی امید پیدا ہوچلی ہے کہ جو انفلوئنزا کی پرانی اور نئی تمام اقسام کے خلاف یکساں طور پر مؤثر ہوگی۔ انفلوئنزا وائرس بڑی تیزی سے اپنی شکلیں بدلنے اور نت نئی اقسام میں ڈھلنے کی خطرناک صلاحیت رکھتا ہے۔ انفلوئنزا کا علاج کرنے والی ویکسین ایک سے 2 سال میں ناکارہ ہوجاتی ہے کیونکہ اس دوران انفلوئنزا وائرس خود کو بہت زیادہ تبدیل کرچکا ہوتا ہے۔ اس کے باعث پرانی ویکسین اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پاتی اور تبدیل شدہ انفلوئنزا وائرس کے لیے نئی ویکسین تیار کرنا پڑتی ہے۔

انفلوئنزا یعنی زکام کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بیسویں صدی کی ابتداء سے لے کر اب تک اس کی 5 عالمی وبائیں پھیل چکی ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں کم از کم ڈھائی کروڑ اموات واقع ہوئی ہیں۔ انفلوئنزا کے خلاف ’’ہر فن مولا ویکسین‘‘ (یونیورسل ویکسین) کی تیاری سے ہر سال نئی انفلوئنزا ویکسین تیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ ویکسین اگر ایک بار بھی تیار کرلی گئی تو وہ متوقع طور پر انفلوئنزا کی نہ صرف موجودہ اور پرانی بلکہ مستقبل میں آنے والی تمام نئی اقسام کے خلاف بھی مؤثر رہے گی۔

ایسا چھوٹا میموری کارڈ جو 12 کروڑ کتابوں کا ڈیٹا محفوظ کرسکے گا


ایمسٹرڈیم: ایک وقت تھا جب چند کلو بائٹ مواد کو محفوظ رکھنےکے لیے بھی بڑی بڑی مشینیں درکار تھیں لیکن اب ہم چھوٹے سے ایس ڈی کارڈ میں سیکڑوں گیگا بائٹس ڈیٹا اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب صرف 0.1 ملی میٹر چوڑائی والے ایک مکعب میں 12 کروڑ کتابوں سے بھی زیادہ کا مواد سمویا جاسکے گا۔

ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی سے منسلک ماہرین کی ٹیم نے ایسی میموری ڈیوائس کا تجربہ کیا ہے جس میں صرف ایک مربع انچ کے رقبے پر 500 ٹیرابائٹس جتنا ڈیٹا محفوظ کیا جاسکے گا۔ سرِدست یہ میموری مائع نائٹروجن کے درجہ حرارت یعنی 77 ڈگری کیلون (منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ) پر ہی کام کرسکتی ہے۔

اس میں تانبے (کاپر) کی سطح پر کلورین ایٹموں کی پرت بچھائی گئی ہے جو صرف ایک کلورین ایٹم جتنی موٹی ہے۔ اسکیننگ ٹنلنگ مائیکرو اسکوپ (ایس ٹی ایم) کی مدد سے ان ایٹموں کی ترتیب میں تبدیلی کرکے میموری میں ڈیٹا لکھا جاتا ہے جبکہ ڈیٹا پڑھنے، بدلنے اور مٹانے کا کام بھی ایس ٹی  ایم ہی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ فی الحال صرف ایک کلوبائٹ جتنے ڈیٹا سے اس تکنیک کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

یہ نئی تکنیک ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے جب کہ اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے نیول ریسرچ لیبارٹری، امریکا میں سینٹر فار کمپیوٹیشنل مٹیریل سائنس کے تحقیق کار اسٹیون اِروِن کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کے ذریعے محفوظ کیے گئے ڈیٹا کی کثافت ’’موجودہ ہارڈ ڈسک یا فلیش (میموری کی) ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ ہے اور یہ پیش رفت بلاشبہ قابلِ تعریف ہے۔

کھجورکے وہ حیرت انگیزطبی فوائد جن سے ہم اب تک لاعلم تھے


کھجورکو قدرت نے بے شمار غذائیت اورخصوصیات سے نوازا ہے جب کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا بھی موجود ہے۔
کھجورمیں بے شماراقسام کے وٹامنزاورمعدنیات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کھجورکو توانائی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی مانا جاتا ہے جب کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا بھی موجود ہے، کھجور میں موجود بہت سے معدنیات انسانی جسم کے لیے انتہائی اہم ہیں لہذا ہم آپ کوکھجور کے وہ طبی فوائد بتارہے ہیں جن سے آپ اب تک لا علم تھے ۔

قبض کے مرض کے لیے
قبض کی شکایات بہت سے لوگوں رہتی ہے اور اس بیماری سے نجات کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں لیکن طبی ماہرین کے مطابق کھجور کا استعمال قبض کی شکایات کو دور کرتا ہے لہذا کھجوروں کو رات بھر پانی میں بھگو کررکھیں اور صبح نہار منہ اس کو کھالیں۔

مظبوط ہڈیوں کے لیے
کھجور میں شامل معدنیات کی وجہ سے اس کو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم غذا مانا جاتا ہے کیونکہ کھجور میں شامل معدنیات جس میں میگنیشم، کاپر اور میگنیس شامل ہوتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی اور نشونما کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ بالخصوص بوڑھے افراد جن کی ہڈیاں عمر کے ساتھ ساتھ کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھجور کا استعمال کریں۔

الرجی سے بچاؤ کے لیے
کھجوروں کا ایک اہم فائدہ اس میں موجود سلفر ہے جو کہ دوسری غذاؤں میں آسانی کے ساتھ نہیں پایا جاتا لہذا جو افراد موسمیاتی الرجی کا شکار ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھجور کا استعمال کریں۔ 2002 میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آرگانک سلفر ایسے تمام لوگوں کے انتہائی مفید کے جنہیں موسمیاتی الرجیزکا سامنارہتاہے جب کہ امریکا میں تقریباً 23 ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں۔

وزن میں اضافے کے لیے
کھجور پروٹینز اور وٹامنز سے بھرپور غذا ہے، ایک کلو کھجور میں تقریباً 3 ہزار کیلوریز پائی جاتی ہیں لہذا ایسے افراد جو اپنا وزن بڑھانا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھجوروں کا استعمال کریں۔

صحت مند دل کے لیے
اگر چاہتے ہیں کہ آپ کا دل ہمیشہ توانا اور صحتمند رہے تو آپ کو کھجور کا استعمال شروع کردیناچاہیے کیونکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھجور کا استعمال کمزور دل کے لیے انتہائی مفید ہے جب کہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کھجور سے دل کے دورے سمیت دیگر امراض پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے اقامہ میں تین ماہ کی توسیع


اسلام آباد(21 جنوری۔2016ء)پاکستانی حکومت کی درخواست پر سعودی عرب نے پاکستانیوں کے اقامہ کی مدت میں اضافے کی درخواست دی تھی جو کہ سعودی عرب نے قبول کرتے ہوئے پاکستانیوں کے لیے اقامہ میں تین ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ پاکستانی حکومت کی درخواست پر سعودی عرب نے پاکستانیوں کے اقامہ کی مدت میں اضافے کی درخواست دی تھی جو کہ سعودی عرب نے قبول کر لی جس کے بعد ہزاروں پاکستانیوں کواقامہ کی توسیع میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔


5 Reasons You Should Quit Your Job and Start Freelancing

Do you like being bossed around? No? It’s only natural – nobody likes it. But the reality is that you enter adult life and all of a sudden, having a job is a requirement. One day, you didn’t even bother taking orders from your mom or siblings, and the next; you are taking orders from a complete stranger you don’t even like!

It is understandable; since the stranger in question is paying you to do work for him or her. When you are a leader, why must you be a follower in order to earn a living? You can make your own living! Here are the five reasons you should quit your job and start freelancing with that insurgent blood running in your veins:

You Are Your Own Boss

That’s the biggest advantage of having a freelancing career – you don’t follow someone else’s rules, you make your own! This independence comes with a healthy dose of freedom to work when you choose and where you choose.

Your relationship with your client will be democratic rather than autocratic. This different spirit in the relationship actually gives you an equal footing with your client, rather than being downplayed as simply a ‘staff member.’ You will set your own hours, build your own schedule, wake up when you want. Doesn’t that sound too good to be true?

Personal Space

How many times have you had to cancel plans with your friends or family because you didn’t get a leave? Are you tired of fitting your personal life around your work, and sometimes not being able to? With freelancing, you will have the opportunity to fit your work around your personal life. No more calling up friends to postpone movie plans. You can take a break from work when you want and not only that, you can take as much holidays or as little as you prefer, which means more personal space for family, even going on a vacation!

Financial benefits

The only reason you can ever lose your job is if YOU are careless and negligent. Therefore, since you are in charge, you have job security. Freelancing is an opportunity for you to learn how to keep your finances and manage money.

Furthermore, as compared to being a fulltime employee with a fixed pay, you are in a position to negotiate and change your rate. You can double or even triple it, in accordance with the client at hand. Not only this, you can work for multiple clients at the same time and increase your pay as a consequence.

Look at it this way, how can more money ever be a bad thing?

Skill Development

As a freelancer, you will have the chance to work with various different clients and in a multitude of roles. This will help you push your boundaries and widen your experience to an extent where you can not only hone your existing skills, but discover your ability to discover talents you never had!

For example, you may already know that you are a good writer, but if you are required to work with the design of the content as well, you could actually come to realize you are a competent designer. Ultimately, you will develop your core skill set and you will be able to create an image of being sought after rather than seeking clients. So, rather than being stuck in a rut at your job, you will have the opportunity to explore the rest of the path!

You Can Do What You Love

You can do what your love and love what you do. Since you don’t answer to anyone, you can literally take a u-turn with respect to which skill you wish to use as a freelancing opportunity. You are currently an accountant, you are good at what you do, but you don’t have a passion for it – you’d rather write all day. Leave that life behind and pursue writing as a freelancing career! With freelancing, the world is not only at your feet, but yours to live the way you want to.

You Have a Decision to Make

Now that you know all the reasons, ask yourself why you are continuing to work at this job, especially if you don’t like it? Then ask yourself if you want any of the things mentioned above to make your work life invigorating. Above all, ask yourself if you want to be your own boss. Is the answer yes? Then it’s definitely time for you to quit your job and start freelancing! You only live once, make it worth your while.

جب پاکستان نے بھارت کے دس جنگی طیارے تباہ کیے

وہ چھ ستمبر سنہ 1965 کا دن تھا، وقت دوپہر چار بجے اور مقام پاکستان کا پشاور ایئر بیس۔

سكوارڈن لیڈر سجاد ’نوذي‘ حیدر پٹھان کوٹ پر فضائی حملہ کرنے کے لیے اپنے ساتھی پائلٹس کو بريف کر رہے تھے۔

اچانک انہوں نے ایک بالٹی میں تازہ پانی طلب کیا اور 4711 نمبر کولون کی بوتل نکال کر اس بالٹی میں انڈیل دی۔

پھر انہوں نے چھوٹے چھوٹے تولیے منگوائے اور انہیں خوشبودار پانی میں ڈبو کر ساتھی پائلٹس کو پکڑا دیا۔

سجاد حیدر نےاس واقعے سے متعلق بی بی سی کو بتایا’میں نے ان سے کہا ہو سکتا ہے یہ آپ کا یک طرفہ مشن ہو اور آپ لوٹ کر واپس ہی نہ آئیں۔ میں چاہتا ہوں جب آپ اپنے خالق سے ملیں تو آپ کے اندر سے بہترین خوشبو آنی چاہیے۔‘

ٹھیک ساڑھے چار بجے 8 سیبر جیٹ طیاروں نے پشاور سے ٹیک آف کیا۔ وہ 11000 فٹ کی اونچائی تک گئے اور پھر نیچے غوطہ لگا کر درختوں کی اونچائی کی سطح پر اڑنے لگے۔

وارننگ کو نظر اندازکیا

ادھر بھارتی ریاست پنجاب کے پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر امرتسر ایئر بیس سے سكوارڈن لیڈر دنڈا کی ایک ارجنٹ ٹیلیفون کال آئی۔

انہوں نے ونگ کمانڈر کورین کو بتایا کہ کچھ سیبر جیٹ طیاروں کوٹیک آف کرنے کے بعد ریڈار کے پردے سے غائب ہوتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔

یہ کسی حملے کا اشارہ ہے اور اس پر کورین نے سٹیشن کمانڈرگروپ کیپٹن روشن سوری کو اس خدشہ کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے کیپ یعنی کامبیٹ ایئر پٹرول کی اجازت مانگی۔

سوری سے یہاں ایک بڑی غلطی ہوئی۔ انہوں نے کیپ کی اجازت نہیں دی۔

مگ 21 شعلوں میں

ٹھیک 5 بج کر 5 منٹ پر پاکستانی سیبر جنگی طیارے پٹھان کوٹ کے اوپر پہنچے۔ اوپر سے انہوں نے دیکھا کہ ایئر بیس پر بہت بڑی تعداد میں بھارتی جنگی طیارے کھڑے ہیں۔

نوذي حیدر نے 500 میٹر کی اونچائی سے بہت سنبھل کر ڈائيو لگائی اور نیچے کھڑے طیارے پر نشانہ لگا کر فكسڈ گن سے حملہ کیا۔

پھر انہیں بلکل نئے آئے دو مگ 21 دکھائی دیے۔ اس وقت ان میں ایندھن بھرا جا رہا تھا۔ انہوں نے ان پر بھی نشانہ لگا کر حملہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نئے طیارے شعلوں میں لپٹ گئے۔

جہاز سے نیچے کودے

اس گروپ کے باقی پائلٹوں نے بھی ڈائیو لگا کر حملہ کیا۔ انہیں صرف دو بار حملہ کرنے کا حکم ملا تھا لیکن بہت طیاروں کوایک ساتھ دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آ گیا اور انہوں نے بھارت کی اس فضائی بیس پر کئی حملے کیے۔ ان کی مزاحمت کرنے کے لیے ایک بھی بھارتی طیارہ اوپر نہیں آیا۔

سب سے اوپر کور دے رہے ونگ کمانڈر تواب نے نیچے کم از کم14 آگ کے گولے پھیلتے ہوئے دیکھے۔

بھارتی ونگ کمانڈر کورین اپنے گھر سے ملحقہ گیراج میں اپنی گاڑی پارک کر رہے تھے کہ انہیں طیارہ تباہ کرنے والی توپ کےگرجنے کی آواز سنائی دی۔

انہوں نے ایئر بیس کی طرف نظر دوڑائی تو دیکھا چار سیبر طیارے نیچے اڑتے ہوئے مشین گن سے گولیاں برسا رہے ہیں اور دو ایف 104 سٹار فائٹر اوپر سے ان کو کور دے رہے ہیں۔

جیسے ہی چار سیبر وہاں سے ہٹے دوسرے چار سیبر طیاروں نے ان کی جگہ لے لی۔ تقریباً اسی وقت جنک کپور اپنے نیٹ کو بلاسٹ پین کے اندر لے جا رہے تھے۔ ایک جونیئر افسر نے چلا کرکہا ’سر اوپر دیکھیے۔ وہ حملہ کر رہے ہیں۔‘

اسی دوران ایک سیبر نے مردیشور کے نیٹ کو بھی بلاسٹ پین میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس نے اس پر گولیوں کی بوچھار کردی۔ مردیشور جہاز سے نیچے کود کر بھاگے اور تبھی انہوں نےدیکھا کہ ان کا نیٹ آگ کے شلعوں میں جل کر راکھ ہو رہا ہے۔

کاک پٹ سے چھلانگ

ادھر 3 سكوارڈن کے فلائٹ لیفٹیننٹ ترلوچن سنگھ اپنا مسٹيرئس جہاز بلاسٹ پین میں پارک کر کے نیچے اتر ہی رہے تھے کہ ایک سیبر نے ان کے جہاز پر حملہ کیا۔ انہوں نے دوڑ کر ایک بنکر میں پناہ لی۔

ان کے دوسرے نمبر کے فلائنگ افسر رسل مونٹیس اب بھی ہوائی جہاز کے اندر تھے اور انہوں نے اپنی سیٹ بیلٹ بھی نہیں کھولی تھی۔ نیچے ایئر مین ان کے جہاز کے پہیے کے نیچے كلاک لگا ہی رہے تھے کہ گولیوں کی ایک برسٹ ان کی طرف آئی۔

ایئر مین نے رسل کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھا۔انہیں لگا کہ رسل نے ہی غلطی سے پین کے اندر گولیاں چلا دی ہیں۔ بڑی مشکل سے رسل نے اپنی سیٹ بیلٹ کا سٹریپ کھولا۔ جب وہ طیارے سے نیچے اترنے لگے تو انہوں نے پایا کہ ایئر مین نے ان کے طیارے میں سیڑھی ہی نہیں لگائی ہے۔ انہوں نےاپنی جان بچانے کے لیے کاک پٹ سے ہی چھ فٹ نیچے چھلانگ لگائی۔

ایک گڈّھے میں چھ پائلٹ

اس وقت پٹھان کوٹ کی بیس کا صرف ایک مسٹيریئس طیارہ ہوا میں تھا۔ اور اسے فلائگ افسر مائیک میکموہن اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کچھ روز پہلے ہی ایئر فورس جوائن کیا تھا اور وہ ایک تربیتی مشن پر تھے۔ انہیں ریڈیو ٹریفک نے ہدایت دی کہ وہ پٹھان کوٹ سے دور رہیں اور پاکستانی حملہ مکمل ہونے کے بعد ہی نیچے اتریں۔

پاکستانی حملہ آور میكموہن کو نہیں دیکھ پائے۔ وہ بال بال بچے اور بعد میں بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل بنے۔

اس وقت پٹھان کوٹ میں تعینات ایئر مارشل راگھویندرن سبرامنیم اپنی سوانح عمری ’پینتھر ریڈ ون‘ میں لکھتے ہیں ’ہم تقریباً چھ سات پائلٹ ایک گڑھے میں ایک کے اوپر ایک لیٹے ہوئے تھے۔ سب سے نیچے والا پائلٹ چلّایا میرا بوجھ سے دم گھٹاجا رہا ہے۔ سب سے اوپر والے پائلٹ نے، جس کی پیٹھ گڑھے کے اوپر دکھائی دے رہا تھی، جواب دیا، مجھ سے اپنی جگہ بدلوگے؟‘

سبرامنیم آگے لکھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے چار نیٹ فضا میں بھیج دیے ہوتے تو پاکستانی اتنا نقصان نہیں کر پاتے۔ اسی دن پاکستانی طیاروں نے ہلوارا اور آدم پور پر بھی حملہ کیا۔ لیکن وہاں بھارتی طیارے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے تیار تھے۔ پاکستانی طیارے ان دونوں ایئر بیس کے اوپر تک سے بھی نہیں گزر پائے۔

سارے سیبر کامیاب حملہ کر کے محفوظ نکل گئے۔ اس حملے میں بھارت کے دس طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔

اس حملے میں شامل ہر ایک پاکستانی پائلٹ کو ’ستارہ جرات‘ جیسے اعزاز سے نوازا گیا۔

ان آٹھ پائلٹس میں سے مشہور گلوکار عدنان سمیع کے والد فلائنگ افسر ارشد سمیع بھی شامل تھے۔

Don't look now, but the future is here!

In the first half of the 20th Century, a wide range of futurists, science fiction writers and others predicted what life would be like in the Year 2000 and beyond. Many of those concepts made such an impact that they left an indelible mark on the public's imagination. In fact, many people assume that we're still slowly progressing toward that future. But I'm here to tell you that the real future has already arrived. More than that, the predicted future is boring and inferior to our amazing reality. Let's compare elements of yesterday's future with what's actually happening now. Pet robots In the future-obsessed 1920s, '30s and '40s, futurists commonly believed that robotic pets would become normal. A few prototypes were even mocked up and displayed at World's Fairs. One robot dog called Philidog was created in 1928. The most famous was Sparko, a robotic dog created in 1940. They were actually mechanical contraptions that responded in limited ways to various inputs. They achieved slow, clumsy movement with internal gears and wires. Futurists no doubt assumed that computers would eventually be involved, and that mechanical dogs would evolve into robot dogs. But no futurist could have predicted the massive computer power controlling today's home robot pets. The most recent example is the BB-8. Computerworld's Best Places to Work in IT 2015: Company Listings The complete listings: Computerworld's 100 Best Places to Work in IT for 2015 A compact list of the 56 large, 18 midsize and 26 small organizations that ranked as Computerworld's Read Now Unveiled last week by Sphero, the $150 BB-8 is a pet robot modeled after a droid in the upcoming Star Wars movie, The Force Awakens, which opens in December. Sphero worked with Disney on the design of the robot featured in the movie, then got the rights to make a branded toy pet based on the movie character. The BB-8 has a magnetically attached head. (Sphero's marketing material says the head is attached not with magnets but with "the force" -- or a "pseudo-inverted pendulum mechanism.") As the ball-shaped body rolls along, the head stays generally on top of the BB-8 while at the same time appearing to look around nervously and curiously. The BB-8 rolls around on its own and can be remote-controlled or run through user-determined programs. It even responds to voice commands. (Hilariously, it runs away in a panic when you say, "It's a trap!") Sphero's droid is also capable of simulated "holographic communication," which you can see as an augmented reality feature via your phone's camera and screen. The "brains" of the BB-8 is your Android or iOS smartphone running the BB-8 app, which will no doubt gain new powers and abilities with each new update. The processing power for the BB-8 (your phone) vastly exceeds anything imaginable until recently. In comparison, the mid-century futurists could not have predicted or imagined even the IBM Deep Blue supercomputer that beat chess champion Garry Kasparov in 1997. Deep Blue was capable of 11.38 GFLOPS (a GFLOP is 1 billion floating point operations per second), which is puny compared to the 115.2 GFLOPS that the iPhone 6's A8 SoC delivers. So when your BB-8 is rolling around amusing the family, it's being powered by the equivalent of more than 10 IBM supercomputers of the late 1990s. So yeah, we have the predicted robot pets. And they're probably way more advanced than the futurists predicted. Jet packs Futurists also envisioned jet packs -- apparently believing that lashing a high-powered engine to your back would be a viable form of transportation. The jet pack idea was so compelling, in fact, that it was brought to fruition decades ago. The jet packs that, say, Nick Macomber flies in demonstrations are essentially perfected versions of the concept from the 1960s and '70s. The jet packs based on the decades-old predictions keep you in the air for 30 seconds or so. They're also dangerous. The new version of the old jet pack vision is off-limits to the public. Compare that with the much-better jet-pack-like concepts that are a reality, and are available to anyone who has the money and courage to use them. For example, check out this video of Yves Rossy and Vince Reffet, who fly jetpacks combined with hard-wing wingsuits to fly like Superman. What Readers Like Ashley Madison CEO Noel Biderman This Ashley Madison hack story keeps getting worse and worse [u4] open windows with clouds 164757 1280 4 overblown Windows 10 worries Hands-on with the Samsung Galaxy Note 5 And next year, if you've got $150,000 to spend, you'll be able to buy the world's first commercially available jet pack, the Martin Jetpack. Flying cars Dozens of actual flying car products have hit the market, or will soon. Most of these are more accurately described as "roadable aircraft," because they're basically airplanes that have fold-up wings and can be driven on roads. The creation of flying cars hasn't solved the problem of where you can fly them. Pilot's licenses and advanced training are required. Airspace, weather, obstacle avoidance and all the standard factors involved in flying planes apply. So the long-predicted dream of escaping traffic jams by taking off from the freeway and soaring into the sky can't happen because it's both dangerous and illegal. So most people who could own roadable aircraft don't. These vehicles are inferior airplanes and inferior cars. It's much better, it turns out, to buy a real car plus a real airplane. But one of the core predicted attributes of yesterday's flying car of the future was the ability to fly to places where there's no airport or runway. And that vision is quickly becoming a reality. Two companies are working on vertical-takeoff airplanes for the consumer market. One is the TF-X from Terrafugia. The other is the TriFan 600 from XTI. Popular Resources eBook Sponsored 5 Secrets to Building Your Sales Pipeline Video/Webcast Sponsored vGPU technology from Dell, VMware and NVIDIA: Examples from the Real World See All These airplanes will both let you fly as you would in an airplane and land in your front yard (regulations permitting) -- or on a helicopter pad on top of a building in a major city. Food in pill form Another favorite idea of the 20th Century futurists was technology that would free us from the problems and hassles of eating. The concept was that all the nutrition you might ever need could be delivered in capsules, thus relieving us of the need to expend time and energy on shopping, cooking and cleaning up. A Silicon Valley venture-backed startup called Soylent is selling that same vision in powder and liquid form. It explicitly touts the benefit of saving time. And it's enhancing that vision by promoting the environmental friendliness and low cost of its product (you can survive on Soylent for about $70 per month). But we have something now that's far better than food pills or even Soylent: We have real food that's really good. A '50s-era futurist wouldn't have been able to imagine the quality and variety of food we have today. (Turns out people enjoy eating. Go figure.) The reality is that much of our world today meets or exceeds the expectations of yesterday's futurists.

Clean up your window with the WORD! (THE TRUTH)

A young couple moved into a new neighbourhood. The next morning while eating breakfast, the young woman saw her neighbour through the window hanging the wash outside.

"That laundry is not clean," she said. "She doesn't know how to wash correctly. Perhaps she needs better laundry soap"
Her husband looked on, but remained silent. Every time the neighbour would hang laundry to dry, the young woman would make the same comments.

About one month later, the woman was surprised to see nice clean wash on the line and said to her husband: "Look, she has learnt how to wash correctly. I wonder who taught her this!"

The husband replied: "I got up early this morning and cleaned our windows."

And so it is with life.

What we see when watching others depends on the purity of the window through which we look.

Easy to discuss other people, their lives and things that don't really concern us.

Yet we tend to forget- our window isn't that clean after all.

Clean up your window with the WORD! (THE TRUTH)

Build your own dreams unless some one hire you to build hisown dreams

Build your own dreams unless some one hire you to build hisown dreams


Pakistan in 2015 without Electricity

Latest new Get Free 10000 of FB Likes, FB Shares, Fan Page LIkes, Like Status & Photos

How to Get Free 10000 FaceBook Likes Best and the Easiest Way Get Likes in Seconds

© Copyright AGS Updates | Distributed By Free Blogger Templates
Back To Top