فیس بُک پر پرانی پوسٹس کیسے چھپائیں
آئی فون سیون کے اہم فیچرز
خواتین کے دل کی بے ترتیب دھڑکن زیادہ خطرناک ہے ، تحقیق
انگلینڈ کی ایک یونیورسٹی میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ خواتین کے دل کی بے ترتیب دھڑکن مردوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہے- جو خواتین بغیر کسی ظاہری دل کے عضلات کی بیماری میں مبتلا ہوں ان میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ دوگناہ ہو جاتا ہے- تحقیق سے اس بات کا بھی پتا چلا ہے کہ جن خواتین میں دل کی دھڑکن کا تسلسل کبھی برقرار رہتا ہے اور کبھی تسلسل کا پتہ ہی نہ چلے یا پھر ان کی نبض میں بھی تسلسل برقرار نہ ہو ان کے لیے خطرے کی کوئی بات نہیں ہے- لیکن اگر دھڑکن کا تسلسل مسلسل طور پر غیر مسلسل ہے تو پھر ڈاکٹر سے لازمی طور پر رجو ع کرنا چاہئیے - مسلسل تسلسل کو جانچنے کے لیے کچھ علامات بھی ہیں جیسا کہ سر چکرانا یا پھر سانس کا مختصر ہونا ہے- اس کے علاوہ آرام کی حالت میں بھی دل کی دھڑکن کافی تیز ہو سکتی ہے یعنی کہ فی منٹ میں تقریباً ایک سو مرتبہ
انسٹا گرام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت
ورزش سے اپنے دل کو مضبوط بنایں
انڈونیشیا میں پایا جانے والا پھل پتھری کے خاتمے میں مؤثر
انسانی ناک سے دنیا کی مؤثر ترین اینٹی بایوٹک بنانے والے جراثیم دریافت
How To Get Clear Flawless Skin
Getting an exclusive appearance is a common dream of all females. For this, the young girls to mature women, all pay a special attention towards dressing, makeup styles and modern fashion trends. These fashion tools are definitely important to give you attention-grabbing appearance but none of them may provide you desired results if your skin is dry, dull and lifeless.
Smooth, flawless and fresh skin play a significant role in enhancing an individual’s personality. There are several skin care products available in the markets, however, I recommend you to not rely on such products.
These chemical based creams and lotions can make your skin radiant temporarily but their side effects will damage the skin cells permanently. To avoid the suspected damages of the commercial products, try following natural tips.
1. Lemon contains excellent skin bleaching properties. Application of fresh lemon juice for few minutes every day ensures the radiant and flawless skin.
2. One of the top home remedies for skin fairness is applying the potato juice over the skin. Repeat this remedy every day for at least two weeks to get observable results.
زکام کے علاج کے لیے ’’ہرفن مولا‘‘ ویکسین کی تیاری
ایسا چھوٹا میموری کارڈ جو 12 کروڑ کتابوں کا ڈیٹا محفوظ کرسکے گا
کھجورکے وہ حیرت انگیزطبی فوائد جن سے ہم اب تک لاعلم تھے
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے اقامہ میں تین ماہ کی توسیع
5 Reasons You Should Quit Your Job and Start Freelancing
Do you like being bossed around? No? It’s only natural – nobody likes it. But the reality is that you enter adult life and all of a sudden, having a job is a requirement. One day, you didn’t even bother taking orders from your mom or siblings, and the next; you are taking orders from a complete stranger you don’t even like!
It is understandable; since the stranger in question is paying you to do work for him or her. When you are a leader, why must you be a follower in order to earn a living? You can make your own living! Here are the five reasons you should quit your job and start freelancing with that insurgent blood running in your veins:
You Are Your Own Boss
That’s the biggest advantage of having a freelancing career – you don’t follow someone else’s rules, you make your own! This independence comes with a healthy dose of freedom to work when you choose and where you choose.
Your relationship with your client will be democratic rather than autocratic. This different spirit in the relationship actually gives you an equal footing with your client, rather than being downplayed as simply a ‘staff member.’ You will set your own hours, build your own schedule, wake up when you want. Doesn’t that sound too good to be true?
Personal Space
How many times have you had to cancel plans with your friends or family because you didn’t get a leave? Are you tired of fitting your personal life around your work, and sometimes not being able to? With freelancing, you will have the opportunity to fit your work around your personal life. No more calling up friends to postpone movie plans. You can take a break from work when you want and not only that, you can take as much holidays or as little as you prefer, which means more personal space for family, even going on a vacation!
Financial benefits
The only reason you can ever lose your job is if YOU are careless and negligent. Therefore, since you are in charge, you have job security. Freelancing is an opportunity for you to learn how to keep your finances and manage money.
Furthermore, as compared to being a fulltime employee with a fixed pay, you are in a position to negotiate and change your rate. You can double or even triple it, in accordance with the client at hand. Not only this, you can work for multiple clients at the same time and increase your pay as a consequence.
Look at it this way, how can more money ever be a bad thing?
Skill Development
As a freelancer, you will have the chance to work with various different clients and in a multitude of roles. This will help you push your boundaries and widen your experience to an extent where you can not only hone your existing skills, but discover your ability to discover talents you never had!
For example, you may already know that you are a good writer, but if you are required to work with the design of the content as well, you could actually come to realize you are a competent designer. Ultimately, you will develop your core skill set and you will be able to create an image of being sought after rather than seeking clients. So, rather than being stuck in a rut at your job, you will have the opportunity to explore the rest of the path!
You Can Do What You Love
You can do what your love and love what you do. Since you don’t answer to anyone, you can literally take a u-turn with respect to which skill you wish to use as a freelancing opportunity. You are currently an accountant, you are good at what you do, but you don’t have a passion for it – you’d rather write all day. Leave that life behind and pursue writing as a freelancing career! With freelancing, the world is not only at your feet, but yours to live the way you want to.
You Have a Decision to Make
Now that you know all the reasons, ask yourself why you are continuing to work at this job, especially if you don’t like it? Then ask yourself if you want any of the things mentioned above to make your work life invigorating. Above all, ask yourself if you want to be your own boss. Is the answer yes? Then it’s definitely time for you to quit your job and start freelancing! You only live once, make it worth your while.
جب پاکستان نے بھارت کے دس جنگی طیارے تباہ کیے
وہ چھ ستمبر سنہ 1965 کا دن تھا، وقت دوپہر چار بجے اور مقام پاکستان کا پشاور ایئر بیس۔
سكوارڈن لیڈر سجاد ’نوذي‘ حیدر پٹھان کوٹ پر فضائی حملہ کرنے کے لیے اپنے ساتھی پائلٹس کو بريف کر رہے تھے۔
اچانک انہوں نے ایک بالٹی میں تازہ پانی طلب کیا اور 4711 نمبر کولون کی بوتل نکال کر اس بالٹی میں انڈیل دی۔
پھر انہوں نے چھوٹے چھوٹے تولیے منگوائے اور انہیں خوشبودار پانی میں ڈبو کر ساتھی پائلٹس کو پکڑا دیا۔
سجاد حیدر نےاس واقعے سے متعلق بی بی سی کو بتایا’میں نے ان سے کہا ہو سکتا ہے یہ آپ کا یک طرفہ مشن ہو اور آپ لوٹ کر واپس ہی نہ آئیں۔ میں چاہتا ہوں جب آپ اپنے خالق سے ملیں تو آپ کے اندر سے بہترین خوشبو آنی چاہیے۔‘
ٹھیک ساڑھے چار بجے 8 سیبر جیٹ طیاروں نے پشاور سے ٹیک آف کیا۔ وہ 11000 فٹ کی اونچائی تک گئے اور پھر نیچے غوطہ لگا کر درختوں کی اونچائی کی سطح پر اڑنے لگے۔
وارننگ کو نظر اندازکیا
ادھر بھارتی ریاست پنجاب کے پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر امرتسر ایئر بیس سے سكوارڈن لیڈر دنڈا کی ایک ارجنٹ ٹیلیفون کال آئی۔
انہوں نے ونگ کمانڈر کورین کو بتایا کہ کچھ سیبر جیٹ طیاروں کوٹیک آف کرنے کے بعد ریڈار کے پردے سے غائب ہوتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔
یہ کسی حملے کا اشارہ ہے اور اس پر کورین نے سٹیشن کمانڈرگروپ کیپٹن روشن سوری کو اس خدشہ کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے کیپ یعنی کامبیٹ ایئر پٹرول کی اجازت مانگی۔
سوری سے یہاں ایک بڑی غلطی ہوئی۔ انہوں نے کیپ کی اجازت نہیں دی۔
مگ 21 شعلوں میں
ٹھیک 5 بج کر 5 منٹ پر پاکستانی سیبر جنگی طیارے پٹھان کوٹ کے اوپر پہنچے۔ اوپر سے انہوں نے دیکھا کہ ایئر بیس پر بہت بڑی تعداد میں بھارتی جنگی طیارے کھڑے ہیں۔
نوذي حیدر نے 500 میٹر کی اونچائی سے بہت سنبھل کر ڈائيو لگائی اور نیچے کھڑے طیارے پر نشانہ لگا کر فكسڈ گن سے حملہ کیا۔
پھر انہیں بلکل نئے آئے دو مگ 21 دکھائی دیے۔ اس وقت ان میں ایندھن بھرا جا رہا تھا۔ انہوں نے ان پر بھی نشانہ لگا کر حملہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نئے طیارے شعلوں میں لپٹ گئے۔
جہاز سے نیچے کودے
اس گروپ کے باقی پائلٹوں نے بھی ڈائیو لگا کر حملہ کیا۔ انہیں صرف دو بار حملہ کرنے کا حکم ملا تھا لیکن بہت طیاروں کوایک ساتھ دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آ گیا اور انہوں نے بھارت کی اس فضائی بیس پر کئی حملے کیے۔ ان کی مزاحمت کرنے کے لیے ایک بھی بھارتی طیارہ اوپر نہیں آیا۔
سب سے اوپر کور دے رہے ونگ کمانڈر تواب نے نیچے کم از کم14 آگ کے گولے پھیلتے ہوئے دیکھے۔
بھارتی ونگ کمانڈر کورین اپنے گھر سے ملحقہ گیراج میں اپنی گاڑی پارک کر رہے تھے کہ انہیں طیارہ تباہ کرنے والی توپ کےگرجنے کی آواز سنائی دی۔
انہوں نے ایئر بیس کی طرف نظر دوڑائی تو دیکھا چار سیبر طیارے نیچے اڑتے ہوئے مشین گن سے گولیاں برسا رہے ہیں اور دو ایف 104 سٹار فائٹر اوپر سے ان کو کور دے رہے ہیں۔
جیسے ہی چار سیبر وہاں سے ہٹے دوسرے چار سیبر طیاروں نے ان کی جگہ لے لی۔ تقریباً اسی وقت جنک کپور اپنے نیٹ کو بلاسٹ پین کے اندر لے جا رہے تھے۔ ایک جونیئر افسر نے چلا کرکہا ’سر اوپر دیکھیے۔ وہ حملہ کر رہے ہیں۔‘
اسی دوران ایک سیبر نے مردیشور کے نیٹ کو بھی بلاسٹ پین میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس نے اس پر گولیوں کی بوچھار کردی۔ مردیشور جہاز سے نیچے کود کر بھاگے اور تبھی انہوں نےدیکھا کہ ان کا نیٹ آگ کے شلعوں میں جل کر راکھ ہو رہا ہے۔
کاک پٹ سے چھلانگ
ادھر 3 سكوارڈن کے فلائٹ لیفٹیننٹ ترلوچن سنگھ اپنا مسٹيرئس جہاز بلاسٹ پین میں پارک کر کے نیچے اتر ہی رہے تھے کہ ایک سیبر نے ان کے جہاز پر حملہ کیا۔ انہوں نے دوڑ کر ایک بنکر میں پناہ لی۔
ان کے دوسرے نمبر کے فلائنگ افسر رسل مونٹیس اب بھی ہوائی جہاز کے اندر تھے اور انہوں نے اپنی سیٹ بیلٹ بھی نہیں کھولی تھی۔ نیچے ایئر مین ان کے جہاز کے پہیے کے نیچے كلاک لگا ہی رہے تھے کہ گولیوں کی ایک برسٹ ان کی طرف آئی۔
ایئر مین نے رسل کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھا۔انہیں لگا کہ رسل نے ہی غلطی سے پین کے اندر گولیاں چلا دی ہیں۔ بڑی مشکل سے رسل نے اپنی سیٹ بیلٹ کا سٹریپ کھولا۔ جب وہ طیارے سے نیچے اترنے لگے تو انہوں نے پایا کہ ایئر مین نے ان کے طیارے میں سیڑھی ہی نہیں لگائی ہے۔ انہوں نےاپنی جان بچانے کے لیے کاک پٹ سے ہی چھ فٹ نیچے چھلانگ لگائی۔
ایک گڈّھے میں چھ پائلٹ
اس وقت پٹھان کوٹ کی بیس کا صرف ایک مسٹيریئس طیارہ ہوا میں تھا۔ اور اسے فلائگ افسر مائیک میکموہن اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کچھ روز پہلے ہی ایئر فورس جوائن کیا تھا اور وہ ایک تربیتی مشن پر تھے۔ انہیں ریڈیو ٹریفک نے ہدایت دی کہ وہ پٹھان کوٹ سے دور رہیں اور پاکستانی حملہ مکمل ہونے کے بعد ہی نیچے اتریں۔
پاکستانی حملہ آور میكموہن کو نہیں دیکھ پائے۔ وہ بال بال بچے اور بعد میں بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل بنے۔
اس وقت پٹھان کوٹ میں تعینات ایئر مارشل راگھویندرن سبرامنیم اپنی سوانح عمری ’پینتھر ریڈ ون‘ میں لکھتے ہیں ’ہم تقریباً چھ سات پائلٹ ایک گڑھے میں ایک کے اوپر ایک لیٹے ہوئے تھے۔ سب سے نیچے والا پائلٹ چلّایا میرا بوجھ سے دم گھٹاجا رہا ہے۔ سب سے اوپر والے پائلٹ نے، جس کی پیٹھ گڑھے کے اوپر دکھائی دے رہا تھی، جواب دیا، مجھ سے اپنی جگہ بدلوگے؟‘
سبرامنیم آگے لکھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے چار نیٹ فضا میں بھیج دیے ہوتے تو پاکستانی اتنا نقصان نہیں کر پاتے۔ اسی دن پاکستانی طیاروں نے ہلوارا اور آدم پور پر بھی حملہ کیا۔ لیکن وہاں بھارتی طیارے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے تیار تھے۔ پاکستانی طیارے ان دونوں ایئر بیس کے اوپر تک سے بھی نہیں گزر پائے۔
سارے سیبر کامیاب حملہ کر کے محفوظ نکل گئے۔ اس حملے میں بھارت کے دس طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔
اس حملے میں شامل ہر ایک پاکستانی پائلٹ کو ’ستارہ جرات‘ جیسے اعزاز سے نوازا گیا۔
ان آٹھ پائلٹس میں سے مشہور گلوکار عدنان سمیع کے والد فلائنگ افسر ارشد سمیع بھی شامل تھے۔
Don't look now, but the future is here!
Clean up your window with the WORD! (THE TRUTH)
"That laundry is not clean," she said. "She doesn't know how to wash correctly. Perhaps she needs better laundry soap"
Her husband looked on, but remained silent. Every time the neighbour would hang laundry to dry, the young woman would make the same comments.
About one month later, the woman was surprised to see nice clean wash on the line and said to her husband: "Look, she has learnt how to wash correctly. I wonder who taught her this!"
The husband replied: "I got up early this morning and cleaned our windows."
And so it is with life.
What we see when watching others depends on the purity of the window through which we look.
Easy to discuss other people, their lives and things that don't really concern us.
Yet we tend to forget- our window isn't that clean after all.
Clean up your window with the WORD! (THE TRUTH)
















